صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
114. باب حجامة الصائم - ذكر وصف ما يحتجم المرء به إذا كان صائما
روزہ دار کے لیے حجامت کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اگر روزہ دار ہو تو کیا حجامت کرائے
حدیث نمبر: 3536
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَعَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَضَعَ الْمُحَاجِمَ مَعَ إِفْطَارِ الصَّائِمِ، فَحَجَمَهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ:" كَمْ خَرَاجُكَ؟" قَالَ: صَاعَيْنِ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ صَاعًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى يُعْرَفُ بِسَعْدَانِ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، ثِقَةٌ، مَأْمُونٌ، مُسْتَقِيمُ الأَمْرِ فِي الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ سورج غروب ہونے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پھر آپ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ افطاری کے وقت پچھنے لگانے کے اوزاروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہارا خراج کتنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: دو صاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ایک صاع معاف کروا دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): سعید بن یحیی نامی راوی کو سعدان کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ثقہ اور مامون ہیں اور حدیث میں مستقیم الامر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3528»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (933 - التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null