سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. باب التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر (اقامت) میں تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئرجمل (مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے (دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 329]
عمیر مولیٰ ابن عباس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ”میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار آئے اور ابوالجہیم بن حارث بن صمہ انصاری کے ہاں گئے تو ابوالجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل (مقام) کی جانب سے تشریف لا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے پاس آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 3 (337)، صحیح مسلم/الحیض 28 (تعلیقاً) (369)، سنن النسائی/الطھارة 195 (312)، (تحفة الأشراف: 11885)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/169) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا أن مسلما علقه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (337) صحيح مسلم (369)
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ ابْنُ دَاسَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ضَرْبَتَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ.
نافع کہتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ (ابھی) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت (موافقت) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 330]
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک کام کے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں گیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا کام پورا کر لیا۔ اس دن ان کی باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ ایک گلی میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب یا پاخانے سے فارغ ہو کر آئے تھے، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، حتیٰ کہ جب وہ گلی میں آنکھوں سے اوجھل ہونے کے قریب ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اپنے چہرے پر پھیرے، پھر دوسری بار مارے اور اپنی کلائیوں پر پھیرے تب اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: ”تیرے سلام کا جواب نہ دینے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں طاہر نہ تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا، وہ کہتے تھے: ”محمد بن ثابت نے تیمم کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔“ ابن داسہ کہتے ہیں کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”محمد بن ثابت کی اس قصے میں کسی نے متابعت (تائید) نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ مارے۔ بلکہ اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل بیان کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8420) (ضعیف)» (محمد بن ثابت لین الحدیث ہیں ایک ضربہ والی اگلی حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف منكر
محمد بن ثابت العبدي: ضعفه الجمهور لمخالفته الثقات فروايته منكرة،وانظر تحرير تقريب التهذيب (5771)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
إسناده ضعيف منكر
محمد بن ثابت العبدي: ضعفه الجمهور لمخالفته الثقات فروايته منكرة،وانظر تحرير تقريب التهذيب (5771)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 331]
جناب نافع رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانے سے فارغ ہو کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی ملا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بئرِ جمل کے پاس تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا، حتیٰ کہ دیوار کے پاس آئے اور دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا، پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8533) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وحسنه المنذري
وحسنه المنذري