سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ،" أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا ما ر لیا اور اسے دھویا نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”وہ اپنے ایک چھوٹے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں، اس نے ابھی کھانا کھانا شروع نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگویا اور اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، والطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطھارة 31 (287)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (71)، سنن النسائی/الطھارة 189 (303)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 30(110)، مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطھارة 62 (767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (223) صحيح مسلم (287)
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو توبة المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ".
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ کوئی دوسرا کپڑ ا پہن لیجئے اور اپنا تہہ بند مجھے دے دیجئیے تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 375]
سیدہ لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ پیشاب کر دیا تو میں نے کہا: ”آپ دوسرا کپڑا پہن لیں اور یہ چادر مجھے دے دیں کہ اسے دھو دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف لڑکی کا پیشاب ہی دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (522)، (تحفة الأشراف: 18055)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/339) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (501)
قابوس ھو ابن المخارق بن سليم، روي عن أبيه عن لبابة به (المعجم الكبير للطبراني 25/25 ح 38 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (501)
قابوس ھو ابن المخارق بن سليم، روي عن أبيه عن لبابة به (المعجم الكبير للطبراني 25/25 ح 38 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 376
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ: وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ، فَأُتِيَ بِحَسَنٍ، أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ، فَقَالَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ"، قَالَ عَبَّاسٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاءِ، قَالَ هَارُونُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: الْأَبْوَالُ كُلُّهَا سَوَاءٌ.
ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب آپ غسل کرنا چاہتے تو مجھ سے فرماتے: ”تم اپنی پیٹھ میری جانب کر لو“، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا، (ایک مرتبہ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، میں اسے دھونے کے لیے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے“۔ حسن بصری کہتے ہیں: (بچوں اور بچیوں کے) پیشاب سب برابر ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 376]
سیدنا ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرنا چاہتے تو مجھے فرماتے ”میری طرف اپنی گدی (پشت) کر لو۔“ تو میں آپ کی طرف گدی کر کے کھڑا ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح پردہ کرتا۔ (ایک بار) سیدنا حسین اور حسن رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا۔ میں اسے دھونے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“ عباس (عباس بن عبدالعظیم) نے اپنی سند میں ( «حدثني» مفرد کے صیغے کے بجائے) «حدثنا يحيى بن الوليد» ذکر کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں اور وہ ابو الزعراء ہے اور ہارون بن تمیم نے جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ”پیشاب سب برابر ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 190 (305)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526)، 113(613)(تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہو سکتا ہے کہ حسن بصری کو اس بارے میں مرفوع حدیث نہ پہنچی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (502)
مشكوة المصابيح (502)
حدیث نمبر: 377
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ".
علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 377]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں جب تک کہ کھانا نہ کھاتا ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 313 (610)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (525)، (تحفة الأشراف: 10131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا لَمْ يَطْعَمْ زَادَ، قَالَ قَتَادَةُ: هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، پھر ہشام نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں انہوں نے «ما لم يطعم» (جب تک کھانا نہ کھائے) کا ذکر نہیں کیا، اس میں انہوں نے اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے کہا: یہ حکم اس وقت کا ہے جب وہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں، اور جب کھانا کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 378]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے، مگر اس میں ”جب تک کہ کھانا نہ کھاتا ہو۔“ کا بیان نہیں ہے، مگر یہ اضافہ کیا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ حکم اس وقت تک ہے جب کہ وہ دونوں (لڑکا، لڑکی) کھانا نہ کھاتے ہوں۔ جب کھانا کھانے لگ جائیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ".
حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو (دونوں صورتوں میں) دھوتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 379]
جناب حسن بصری اپنی والدہ سے راوی ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارتیں جب تک کہ وہ کھانا نہ کھاتا، جب کھانا کھانے لگتا تو اس کو دھوتی تھیں اور لڑکی کے پیشاب کو دھوتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري مدلس وعنعن (تقدم: 17)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
الحسن البصري مدلس وعنعن (تقدم: 17)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27