🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: أَقِمْ الصَّلَاةَ. ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، قَالَ: عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ، وقَالَ عُبَيْدٌ: يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ.
ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح‏.» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548)، وقد أخرجہ: (4/90) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ثابت ہوا کہ قضاء نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان، اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن صالح: مجھول الحال لا يعتبر به ولم يثبت توثيقه عن أبي داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ.
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548) (شاذ)» ‏‏‏‏ (ولید بن مسلم مدلس ہیں اور دیگر رواة کی مخالفت کرتے ہوے اذان کی بابت بھی «‏‏‏‏وھو غیر عجل» ‏‏‏‏ بڑھا دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق: 445
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا، فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المواقیت 54 (625)، (تحفة الأشراف: 9371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 391، 464) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں