سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فِي الإِقَامَةِ
باب: اقامت (تکبیر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ"، زَادَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ حماد نے اپنی روایت میں: «إلا الإقامة» (یعنی سوائے «قد قامت الصلاة» کے) کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 508]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہے۔“ حماد رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا کہ ”مگر اقامت (یعنی «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو بار کہے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 1 (603)، 2 (605)، 3 (606)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (378)، سنن الترمذی/الصلاة 27 (193)، سنن النسائی/الأذان 2 (628)، سنن ابن ماجہ/الأذان 6 (730)، (تحفة الأشراف: 943)، مسند احمد (3/103، 189)، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1230، 1231) (صحیح)»
وضاحت: بلال رضی اللہ عنہ کو جو دہری اذان کے کلمات سکھائے گئے وہ سنن ابوداود حدیث نمبر ۴۹۹ میں درج ہیں وہ دیکھئیے۔ اس میں اذان کے کلمات یہ ہیں «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اور اسی حدیث میں اکہری اقامت کے الفاظ اس طرح سے ہیں۔ «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» یعنی اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ ہیں سوائے «قد قامت الصلاة» کے «قد قامت الصلاة» دو مرتبہ کہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (605) صحيح مسلم (378)
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
اس طریق سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے وہیب کی حدیث کے مثل حدیث مروی ہے اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اسے ایوب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: «إلا الإقامة» (یعنی سوائے «قد قامت الصلاة» کے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 509]
جناب خالد حذا نے ابوقلابہ سے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے (مذکورہ بالا) روایت وہیب کی مثل بیان کی۔ اسماعیل (راوی) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ایوب کو بیان کی تو کہا: ”مگر اقامت“ (یعنی «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ»)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 943) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ پوری اقامت اکہری (ایک ایک بار) ہو گی البتہ «قد قامت الصلاة» کو دو بار کہا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (607) صحيح مسلم (378)
حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ، يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ"، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: «قد قامت الصلاة» کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 510]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار کہے جاتے تھے اور اقامت (تکبیر) کے ایک ایک بار، سوائے اس کے کہ مؤذن «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کہا کرتا تھا (یعنی دو بار)، تو جب ہم اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکل پڑتے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے ابوجعفر رحمہ اللہ سے صرف یہی حدیث سنی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأذان 2 (629)، 28 (669)، (تحفة الأشراف: 7455)، مسند احمد (2/87) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ کبھی کبھی کا معاملہ تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات لمبی ہوا کرتی تھی تو پہلی رکعت پا لینے کا یقین رہتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (643)
وصححه ابن خزيمة (374 وسنده حسن) وله شاھد صحيح عند أبي عوانة (1/329) والدارقطني (1/239)
مشكوة المصابيح (643)
وصححه ابن خزيمة (374 وسنده حسن) وله شاھد صحيح عند أبي عوانة (1/329) والدارقطني (1/239)
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، يَقُول: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 511]
جناب شیبہ، ابو جعفر مسجد عریان کے مؤذن سے اور وہ ابو مثنیٰ مسجد اکبر کے مؤذن سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7455) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: عریان کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق
انظر الحديث السابق