🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ
باب: آدمی جب مؤذن کی آواز سنے تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 522]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جیسے کہ مؤذن کہتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 7 (611)، صحیح مسلم/الصلاة 7 (383)، سنن الترمذی/الصلاة 40 (208)، سنن النسائی/الأذان 33 (674)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (720)، (تحفة الأشراف: 4150)، موطا امام مالک/الصلاة 1(2)، مسند احمد (3/6، 53، 78)، سنن الدارمی/الصلاة 10 (1237) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (611) صحيح مسلم (383)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 523]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو۔ تحقیق جس نے بھی مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے، پھر میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کرو، بلاشبہ یہ (وسیلہ) جنت میں ایک منزل کا نام ہے جو اللہ کے کسی بندے کو ملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔ سو جس نے میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے شفاعت حلال ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 7 (384)، سنن الترمذی/المناقب 1 (3614)، سنن النسائی/الأذان 37 (679)، (تحفة الأشراف: 8871)، مسند احمد (2/168) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (384)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْحُبُلِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ كَمَا يَقُولُونَ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں (یعنی اذان کا جواب دو)، پھر جب تم اذان ختم کر لو تو (اللہ تعالیٰ سے) مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 524]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! مؤذن ہم سے فضیلت لے جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ویسے ہی کہا کرو جیسے کہ وہ کہتے ہیں۔ جب تم اس سے فارغ ہو تو سوال کرو اور دعا مانگو، دیے جاؤ گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8854)، مسند احمد (2/172) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (673)
وابن وھب صرح بالسماع عند الطبراني في كتاب الدعاء (444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ‏‏‏‏ اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اسے بخش دیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 525]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سن کر یہ کہا: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام پر بحیثیت دین کے راضی ہوں۔ تو وہ بخشا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن النسائی/الأذان 38 (680)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (721)، (تحفة الأشراف: 3877)، مسند احمد (1/181) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (386)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ، قَالَ: وَأَنَا وَأَنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: «أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 526]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو سنتے اور وہ شہادت کے کلمات کہتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «وَأَنَا وَأَنَا» اور میں بھی اور میں بھی (یعنی شہادت دیتا ہوں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17122) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (677)
وأخرجه البيھقي (1/409) من حديث أبي داود به وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن: «الله أكبر الله أكبر» کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ) «الله أكبر الله أكبر» کہے، پھر جب وہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے، اور جب وہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے، جب وہ «حى على الصلاة» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، جب وہ «حى على الفلاح» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، پھر جب وہ «الله أكبر الله أكبر» کہے تو یہ بھی «الله أكبر الله أكبر» کہے، اور جب وہ «لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «لا إله إلا الله» کہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 527]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن کہے «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے تو تمہارا سننے والا بھی کہے «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور جب وہ کہے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو سننے والا بھی کہے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پھر وہ کہے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی کہے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں پھر وہ کہے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» آؤ نماز کی طرف اور یہ کہے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» گناہ سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر وہ کہے «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف اور یہ کہے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» گناہ سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر وہ کہے «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور یہ کہے «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے پھر وہ کہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یہ سب کچھ دل کی گہرائی سے کہے، تو جنت میں جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 7 (385)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (40)، (تحفة الأشراف: 10475) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (385)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں