🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

192. باب الخيل - ذكر استحباب ارتباط الأدهم الأقرح من الخيل إذ هو من خير ما يرتبط منها لسبيل الله-
گھوڑوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ کی راہ میں سیاہ پیشانی والے (ادہم اقرح) گھوڑے پالنا مستحب ہے کیونکہ وہ سب سے بہتر گھوڑوں میں سے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4676
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَوْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الْخَيْلِ الأَدْهَمُ الأَقْرَحُ الأَرْثَمُ الْمُحَجَّلُ ثَلاثًا طَلْقُ الْيَدِ الْيُمْنَى" . قَالَ يَزِيدُ: فَإِِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ، فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الشَّكُّ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَالْخَبَرُ مَشْهُورٌ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (راوی کو شک ہے شاید) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سب سے بہترین گھوڑا سیاہ رنگ والا ہوتا ہے جس کی پیشانی اور ناک پر سفید رنگ کا داغ ہو اور اس کی ٹانگوں پر بھی سفید رنگ کا داغ ہو، جو دائیں پاؤں کو کھلا رکھتا ہو۔ یزید نامی راوی کہتے ہیں: اگر اس قسم کا گھوڑا نہ ہو تو پھر ان خصوصیات کا حامل «كُمَيْتٌ» گھوڑا بہتر ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں شک یزید بن ابوحبیب نامی راوی کو ہے، یہ روایت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کے طور پر مشہور ہے جسے موسیٰ بن علی نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4676]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4676، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2472، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1696، 1697، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2472، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2789، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13018، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23000، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 638» «رقم طبعة با وزير 4657»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3877)، «التعليق الرغيب» (2/ 162). * [عَنْ أَبِيهِ] قال الشيخ: لعلَّ الصواب: «أبي قتادة»؛ لأنه يعني: بقوله: «عن أبيه». ذكر في شيء من طرقه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں