🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

322. باب الغنائم وقسمتها - ذكر تحليل الله جل وعلا الغنائم لأمة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - خداوندِ متعال نے اپنی امت کے لیے غنائم حلال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4807
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ غَزَا بِأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: لا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ بَنَى دَارًا لَمْ يَسْكُنْهَا، أَوْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، أَوْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الرُّجُوعِ، قَالَ: فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عَنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنِّي مَأْمُورٌ، فَاحْبِسْهَا عَلَيَّ حَتَّى تَقْضِيَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ، فَجَمَعُوا الْغَنَائِمَ فَلَمْ تَأْكُلْهَا النَّارُ، وَكَانُوا إِذَا غَنِمُوا غَنِيمَةً بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهَا النَّارَ فَأَكَلَتْهَا، فَقَالَ لَهُمْ نَبِيِّهُمْ: إِنَّ فيكُمْ غُلُولا، فَلْيَأْتِنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلْيُبَايِعْنِي، فَأَتَوْهُ فَبَايَعُوهُ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنَّكُمَا غَلَلْتُمَا، فَقَالا: أَجَلْ صُورَةُ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَاءَا بِهَا، فَأَلْقَيَاهَا فِي الْغَنَائِمِ، فَبَعَثَ اللَّهُ النَّارَ فَأَكَلَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَةً رَحِمَنَا بِهَا، وَتَخْفِيفًا خَفَّفَهُ عَنَّا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضَعْفَنَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ مِنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ بِمَكَّةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایک نبی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے (روانگی سے پہلے) فرمایا: ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے نیا گھر بنایا ہو لیکن ابھی اس میں رہائش اختیار نہ کی ہو، اور ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت کے ساتھ شادی کر لی ہو لیکن ابھی اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، یا اس نے واپس جا کر کوئی ضروری کام کرنا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان کا دشمن سے سامنا سورج غروب ہونے کے قریب ہوا، انہوں نے دعا کی: اے اللہ! یہ (سورج بھی) حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں، تو اس کو میرے لیے (غروب ہونے سے) اس وقت تک روک دے جب تک میرے اور ان (کفار) کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس (نبی علیہ السلام) کو فتح نصیب کی، ان لوگوں نے مال غنیمت کو جمع کیا، لیکن اسے آگ نے نہیں کھایا، وہ لوگ جب مال غنیمت جمع کر لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس پر آگ بھیج دیتا تھا جو اس کو کھا لیتی تھی۔ ان کے نبی علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، ہر قبیلے کا ایک شخص میرے پاس آ کر میری بیعت کرے، وہ لوگ اس نبی علیہ السلام کے پاس آئے، انہوں نے ان کی بیعت کی تو ان میں سے دو آدمیوں کا ہاتھ اس نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، تو اس نبی علیہ السلام نے فرمایا: تم دونوں نے خیانت کی ہے۔ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں! (ہم نے) سونے سے بنے ہوئے گائے کے سر جیسی چیز (چھپائی ہوئی ہے)، پھر وہ دونوں اسے لے کر آئے اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا، تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو بھیجا اور اس نے اس (مال غنیمت) کو کھا لیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی رحمت کی وجہ سے ہمیں مال غنیمت عطا کیا اور اس نے ہمیں تخفیف عطا کی کیونکہ وہ ہماری کمزوری سے واقف ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبدالرحمن بن ابراہیم دمشقی نے معاذ بن ہشام سے مکہ میں احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3124، 5157، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4807، 4808، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8827، 11144، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12829، 12830، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8317» «رقم طبعة با وزير 4787»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» رقم (202) و (2742): ق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں