صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
374. باب الفداء وفك الأسرى - ذكر ما يستحب للإمام استعمال المفاداة بين المسلمين وبين الأعداء إذا رأى ذلك لهم صلاحا-
فداء اور اسرا کی رہائی کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسلمانوں اور دشمن کے درمیان مفاداتی معاوضے (فدائی) استعمال کرے اگر وہ اسے نفعِ امت سمجھے
حدیث نمبر: 4859
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، ثُمَّ قَالَ:" أَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوثَقٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَلى مَا أُحْبَسُ؟ فَقَالَ: بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الأَسِيرُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتَهَا، وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاحِ"، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ أَيْضًا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَاهُ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ كَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْهُمَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ الأَسِيرِ: إِنِّي مُسْلِمٌ وَتَرْكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، كَانَ لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ مِنْهُ بِإِعْلامِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِيَّاهُ، أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَسْرِهِ، كَمَا كَانَ يَقْبَلُ مِثْلَهُ مِنْ مِثْلِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ أَسِيرًا، فَأَمَّا الْيَوْمُ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَالَ الْحَرْبِيُّ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَبْلَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَرُفِعَ عَنْهُ السَّيْفَ سَوَاءٌ كَانَ أَسِيرًا أَوْ مُحَارِبًا".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اصحاب کو قید کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بنو عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قید کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو گئے اس نے دریافت کیا مجھے کیوں قید کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے حلیفوں کی زیادتی کی وجہ سے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے تو اس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اس قیدی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی: میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ بات کہتے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو گے اور تم مکمل طور پر کامیابی حاصل کر لو گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے تو اس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے وہ بولا: میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دو آدمیوں کے فدیے کے طور پر ادا کیا جسے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قید کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس قیدی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دینا اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ وہ شخص اپنے اس بیان میں جھوٹا ہے اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قید کے دوران اس سے اعتراف کو قبول نہیں کیا جس طرح کا اعتراف آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی صورت حال میں قبول کر لیتے تھے جب کہ وہ آدمی قیدی نہ ہوتا۔ جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کا تعلق ہے تو وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا جب کوئی حربی شخص یہ کہے: میں مسلمان ہوں تو اس سے اس بات کو قبول کیا جائے گا اور اس سے تلوار کو اٹھا لیا جائے گا خواہ وہ شخص قیدی ہو یا جنگجو ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4859]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4839»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم