سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. باب افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلَاةِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں (سردی کی وجہ سے) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 729]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، سردی کا موسم تھا، میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ کپڑوں کے اندر سے نماز میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11777)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواهد منھا الحديث السابق (727)
وللحديث شواهد منھا الحديث السابق (727)
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ فَوَاللَّهِ؟ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ"، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجئیے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کر لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر «الله أكبر» کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر «الله أكبر» کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت «الله أكبر» کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے (پھر سلام پھیرتے)۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 730]
جناب محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دس افراد کی جماعت میں کہا اور ان میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق تم سب سے زیادہ باخبر ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”کیسے؟ قسم اللہ کی! تم کوئی ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تو نہیں ہو یا ہماری نسبت زیادہ قدیم الصحبت تو نہیں ہو۔“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ صحابہ نے کہا: ”اچھا تو بیان کرو۔“ (ابوحمید رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے ٹک جاتی۔ پھر آپ قرآت فرماتے۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ دونوں کندھوں کے برابر آ جاتے۔ پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھتے اور اعتدال و سکون سے رکوع کرتے، نہ سر کو جھکاتے اور نہ اوپر اٹھاتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ کندھوں کے برابر آ جاتے اور خوب اعتدال و سکون سے کھڑے ہوتے۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور زمین کی طرف جھکتے اور (سجدے میں) اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے۔ پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ لیتے اور اس کے اوپر بیٹھ جاتے۔ اور سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیاں (قبلہ رخ) موڑ لیتے، پھر (دوسرا) سجدہ کرتے، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر لوٹ آتی۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کرتے۔ پھر جب دو رکعتوں سے (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے جیسے کہ نماز شروع کرتے وقت اٹھائے تھے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ پھر بقیہ نماز میں اسی طرح کرتے حتیٰ کہ جب اس سجدہ میں ہوتے جس میں سلام کہنا ہوتا (تو تشہد میں) اپنے بائیں پاؤں کو آگے کر دیتے اور بائیں سرین کے حصے پر بیٹھ جاتے۔“ ان سب صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 145 (828)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (304)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، والسہو 2 (1182)، 29 (1236)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (1061)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424) سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (كلهم مختصرًا من سياق المؤلف، وليس عند البخاري ذكر رفع اليدين ما سوى عند التحريمة) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (801)
صححه ابن خزيمة (587، 588 وسندھما صحيح) عبد الحميد بن جعفر وثقه الجمھور ومحمد بن عمرو بن عطاء صرح بالسماع
مشكوة المصابيح (801)
صححه ابن خزيمة (587، 588 وسندھما صحيح) عبد الحميد بن جعفر وثقه الجمھور ومحمد بن عمرو بن عطاء صرح بالسماع
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ، وَقَالَ: فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.
محمد بن عمرو (بن عطاء) عامری کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا ...، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر جماتے اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھتے، پھر نہ اپنی پیٹھ کو خم کرتے، نہ سر کو اونچا کرتے، نہ منہ کو دائیں یا بائیں جانب موڑتے (بلکہ سیدھا قبلہ کی جانب رکھتے)، پھر جب دو رکعت کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے، پھر جب آپ چوتھی رکعت میں ہوتے، تو اپنی بائیں سرین زمین پر لگاتے اور دونوں پاؤں ایک جانب (یعنی داہنی جانب) نکالتے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 731]
جناب محمد بن عمرو عامری بیان کرتے ہیں کہ میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں تھا، تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر شروع ہو گیا۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا، اور مذکورہ حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، اس میں کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور اپنی انگلیوں کو کھول لیتے اور اپنی کمر کو دہرا کرتے۔ سر نہ تو اٹھایا ہوتا اور نہ اپنے رخسار کو ادھر ادھر موڑا ہوتا (بلکہ سیدھا قبلہ رخ ہوتا)۔“ مزید کہا: ”اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کر لیتے۔ اور جب چوتھی رکعت میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ران کو زمین پر ٹکا دیتے اور اپنے دونوں پاؤں کو ایک جانب میں نکال لیتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11897) (صحیح)» ( «ولا صافح بخدہ» کا جملہ صحیح نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی تورک کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا صافح بخده
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن لھيعة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين 140/ 5) و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 375/10) قلت : ھذا فيما رواه بعد اختلاطه و لم يصرح بالسماع (انظر الفتح المبين ص 7778)
والحديث الآتي (الأصل : 732) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن لھيعة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين 140/ 5) و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 375/10) قلت : ھذا فيما رواه بعد اختلاطه و لم يصرح بالسماع (انظر الفتح المبين ص 7778)
والحديث الآتي (الأصل : 732) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ.
اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے ”جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 732]
جناب محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ سے اسی کی مانند روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتے، اس حالت میں کہ زمین پر بچھے ہوئے نہ ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے، اور انگلیوں کا رخ سیدھا قبلے کی طرف ہوتا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11897) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (828)
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسٍ، أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ.
عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا (یعنی سرین پر بیٹھے) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور (سجدہ سے اٹھ کر) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے“۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے (آخر تک) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب (تیسری رکعت کے لیے) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی (عیسیٰ بن عبداللہ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 733]
سیدنا عباس یا عیاش بن سہیل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں حاضر تھے جس میں ان کے والد بھی موجود تھے اور وہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اسی طرح اس مجلس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ (عیسیٰ بن عبداللہ نے) یہی خبر بیان کی، کسی قدر کمی بیشی کے ساتھ۔ اور اس میں کہا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا یعنی رکوع سے تو کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (یعنی رفع یدین کیا)۔ پھر کہا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، پھر سجدہ کیا اور اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پنجوں کو زمین پر ٹکایا، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور بیٹھ گئے اور سرین پر بیٹھے (تورک کیا) اور دوسرے قدم کو کھڑا کیا، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور دوسرا سجدہ کیا، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور کھڑے ہو گئے مگر تورک نہیں کیا (یعنی سرین پر نہ بیٹھے)۔“ اور حدیث بیان کی، کہا کہ ”دو رکعت کے بعد بیٹھ گئے، حتیٰ کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے اور دوسری دو رکعتیں پڑھیں اور تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 78 (260)، 86 (270)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (863)، (تحفة الأشراف: 11892) (ضعیف)» (اس کے راوی عیسیٰ بن عبداللہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحديث الآتي (966)
عيسي بن عبد اللّٰه بن مالك :مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
إسناده ضعيف
الحديث الآتي (966)
عيسي بن عبد اللّٰه بن مالك :مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، لَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ، وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ نَحْوَ جِلْسَةِ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَعُتْبَةَ.
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی (آپ نے ایسے ہی کیا) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح (بغیر تورک کے) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 734]
جناب عباس بن سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم جمع تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر آ گیا تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں تم سب سے زیادہ آگاہ ہوں۔“ اور اس حدیث میں سے کچھ حصہ بیان کیا۔ کہا: ”پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا گویا انہیں پکڑے ہوئے ہوں اور اپنے ہاتھوں کو تانت بنایا (جو کہ کمان پر ہوتا ہے) اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھا، بیان کیا کہ پھر سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر ٹکایا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر رکھا۔ پھر اپنا سر اٹھایا حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی، یہاں تک کہ (سجدوں سے) فارغ ہو گئے۔ پھر بیٹھے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا اور اپنے دائیں پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا اور اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنے دائیں گھٹنے پر رکھا اور بائیں کو بائیں گھٹنے پر، اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو عتبہ بن ابی حکیم نے عبداللہ بن عیسیٰ سے، انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا، مگر تورک (سرین پر بیٹھنے) کا ذکر نہیں کیا اور حدیث فلیح کی مانند روایت کیا، جبکہ حسن بن حر نے بیٹھنے کا انداز فلیح اور عتبہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11892) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (801)
صححه ابن خزيمة (589، 608، 637، 640، 689 وسندھم حسن) وابن حبان (494 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (801)
صححه ابن خزيمة (589، 608، 637، 640، 689 وسندھم حسن) وابن حبان (494 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَحَدَّثَنِيهِ أُرَاهُ ذَكَرَ عِيسَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
اس طریق سے بھی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے کسی حصہ پر اٹھائے بغیر اپنی دونوں رانوں کے درمیان کشادگی رکھی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مبارک نے روایت کیا ہے، ابن مبارک سے فلیح نے بیان کیا ہے، فلیح کہتے ہیں: میں نے عباس بن سہل کو بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں رکھ سکا۔ ابن مبارک کہتے ہیں: فلیح نے مجھ سے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ فلیح نے عیسیٰ بن عبداللہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے عباس بن سہل سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے یہی حدیث روایت کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 735]
جناب عباس بن سہل ساعدی نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ ”جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کو رانوں سے نہ لگایا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور اس حدیث کو ابن مبارک رحمہ اللہ نے روایت کیا تو کہا: «أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ، سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ» مگر میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا، پس اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی، میرا (ابن مبارک کا) خیال ہے کہ انہوں نے اپنے شیخ کا نام عیسیٰ بن عبداللہ بتایا اور انہوں نے عباس بن سہل سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، اور یہ حدیث بیان کی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11892) (ضعیف)» (عبد اللہ بن عیسیٰ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن عيسي ھو عيسي بن عبد اللّٰه بن مالك : مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن عيسي ھو عيسي بن عبد اللّٰه بن مالك : مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبِطَيْهِ، قَالَ حَجَّاجٌ، وَقَالَ هَمَّامٌ وحَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ هَذَا، وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِيهِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا“۔ حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: ”جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 736]
جناب عبدالجبار بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں، اس حدیث میں بیان کیا کہ ”جب سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گھٹنے زمین پر دونوں ہتھیلیوں کے پڑنے سے پہلے پڑے اور جب سجدہ کیا تو اپنی پیشانی کو دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا اور اپنی بغلوں سے بھی دور کیا۔“ حجاج نے کہا کہ ہمام نے کہا: «حدثنا شقيق حدثني عاصم بن كليب عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی۔ محمد بن جحادہ اور شقیق میں سے کسی ایک کی روایت میں ہے، اور میرا غالب گمان ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں پر اٹھتے اور اپنی رانوں پر ٹیک لگاتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11762) (ضعیف)» (عبدالجبار کا اپنے والد وائل سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شقيق مجهول (تقريب : 2819)
وفيه علة أخري،انظر (ح 724)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
إسناده ضعيف
شقيق مجهول (تقريب : 2819)
وفيه علة أخري،انظر (ح 724)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
حدیث نمبر: 737
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 737]
جناب عبدالجبار بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اونچا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 5(883)، (تحفة الأشراف: 11759) (ضعیف) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 724)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
نسائي (883)
عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
ضعيف
نسائي (883)
عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
حدیث نمبر: 738
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ لِلسُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 738]
جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب (رکوع سے) سجدے کے لیے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 117 (789)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، سنن الترمذی/الصلاة 63 (239)، سنن النسائی/الافتتاح 180 (1151)، (تحفة الأشراف: 14862)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/270، 454) (ضعیف)» (ابن جریج مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 39