سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
---. باب مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنْ الثِّنْتَيْنِ
باب: جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو «الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7415)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/145)، البخاري في رفع الیدین (25)(صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ اور جب اپنی قراءت پوری کر لیتے اور رکوع کرنا چاہتے تو اسی طرح ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ اور نماز میں بیٹھے ہوئے ہونے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث، جس میں انہوں نے نماز نبوی کی تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں ہے کہ آپ جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے جیسے کہ شروع نماز کے وقت تکبیر کہتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن النسائی/الافتتاح 17(896)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15(864)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 4(16)، مسند احمد (1/93) سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (584 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (584 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کی لوؤں تک پہنچ جاتے، (یا کانوں کے اوپر کے حصے تک پہنچ جاتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (881)، 85 (1025)، التطبیق 18(1057)، 36 (1086)، 84 (1144)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 84 (737)، مسند احمد (3/436، 437، 5/53)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (391)
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ لَاحِقٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ"، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: يَقُولُ لَاحِقٌ: أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي: إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ.
بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو (رفع یدین کرتے وقت) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق (ابومجلز) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 746]
جناب بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو میں آپ کی بغلیں دیکھ سکتا تھا۔“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ رفع یدین کے وقت نمایاں طور پر بغلوں سے علیحدہ، دور اور اونچے ہوتے تھے۔) ابن معاذ نے کہا کہ لاحق نے کہا: ”بھلا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کیوں کر ہو سکتے تھے؟“ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے: ”(مقصد یہ ہے کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ہاتھ اونچے کرتے تھے (یعنی نمایاں طور پر اونچے کرتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 51 (1108)، (تحفة الأشراف: 12215) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ"، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ جب رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں میں رکھ لیا (یعنی تطبیق کی)۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو کہا: ”میرے بھائی نے سچ کہا۔ ہم یہ عمل کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں اس کا حکم دیا گیا۔ یعنی گھٹنے پکڑنے کا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 1 (1032)، (تحفة الأشراف: 3907، 9469) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث الآتي (868)
انظر الحديث الآتي (868)