صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل
اس علت (سبب) کا ذکر جس کی بنا پر اس عمل سے روکا گیا ہے
حدیث نمبر: 5343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ الْخَادِمُ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ، فَرَدَّهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الآخِرَةِ" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا خادم ان کے لئے ایسے پیالے میں پانی لے کر آیا جس پہ چاندی کا کام ہوا تھا، تو انہوں نے اسے واپس کر دیا اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ ان (کفار) کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5319»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى مطولاً (5315). تنبيه!! رقم (5315) = (5339) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح