🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. باب مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرْ
باب: امام زور سے قرآت نہ کرے تو مقتدی قرآت کرے اس کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ. عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے؟، تو ایک آدمی نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تبھی تو میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے۔ زہری کہتے ہیں: جس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 826]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پھرے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی تھی اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی کہہ رہا تھا مجھے کیا ہوا کہ قراءت قرآن میں الجھ رہا ہوں۔ راوی نے کہا: پس لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھنے سے رک گئے ان نمازوں میں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہر کر رہے ہوتے، جبکہ انہوں نے آپ سے یہ فرمان سنا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی یہ روایت معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن النسائی/الافتتاح 28 (920)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 13 (848، 849)، (تحفة الأشراف: 14264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 10(44)، مسند احمد (2/240، 284، 285، 302، 487) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
ابن شهاب الزھري صرح بالسماع عند الحميدي (959 وسنده حسن) عماره بن اكيمه الليثي وثقه يعقوب الفارسي والترمذي وابن حبان وابو عوانه وابن عبد البر وقال ابن معين: ’’اسم بن أكيمة عمرو بن مسلم وهو ثقة وقد روي عنه الزهري ومحمد بن عمرو‘‘، وقوله: ’’فانتھي الناس‘‘ مدرج من كلام الزھري ولم يثبت عن أبي ھريرة رضي الله عنه، وانظر الاتحاف الباسم شرح موطا رواية ابن القاسم (ص 165 ح 80)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَابْنِ السَّرْحِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ بِمَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ. قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ بَيْنِهِمْ: قَالَ سُفْيَانُ: وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّهُ قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ فِيهِ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ قَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث «ما لي أنازع القرآن» تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا: تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «فانتهى الناس» یعنی لوگ (قرآت سے) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی «فانتهى الناس» کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «ما لي أنازع القرآن» پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا: اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چنانچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہو ے سنا ہے کہ «فانتهى الناس» زہری کا کلام ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 827]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، خیال ہے کہ یہ صبح کی نماز تھی، اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی «مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ» مجھے کیا ہوا کہ قراءتِ قرآن میں الجھ رہا ہوں۔ تک بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: مسدد نے اپنی حدیث میں کہا کہ معمر نے بیان کیا: پس لوگ ان نمازوں میں قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت کرتے تھے۔ اور ابن سرح نے اپنی روایت میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس لوگ رک گئے۔ اور ان میں سے عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی کلمہ کہا جو میں نہ سن سکا، تو معمر نے بتایا کہ انہوں نے کہا ہے: پس لوگ رک گئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے جو کہ «مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ» کے الفاظ تک ہے۔ اور اوزاعی نے اسے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ زہری نے کہا: پس مسلمان اس پر متنبہ ہو گئے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت کرتے تو وہ آپ کے ساتھ قراءت نہ کیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا کہ «فَانْتَهَى النَّاسُ» یعنی لوگ رک گئے۔ زہری کا کلام ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14264) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مؤلف کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ «فانتهى الناس» کے جملہ کو معمر کبھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیتے ہیں، اور کبھی زہری کا، لیکن زہری کے دوسرے تلامذہ سفیان، عبدالرحمن بن اسحاق، اوزاعی اور محمد بن یحییٰ بن فارس نے اسے زہری کا کلام قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (826)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ؟ قَالُوا: رَجُلٌ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ؟ قَالَ: ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے «سبح اسم ربك الأعلى» کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 828]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے کس نے قراءت کی ہے؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی نے قراءت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھے قراءت میں الجھایا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ابوالولید نے اپنی روایت میں شعبہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے قتادہ سے کہا: کیا سعید کا یہ قول نہیں ہے کہ قرآن کے لیے خاموش رہو؟کہا: یہ تب ہے جب وہ جہراً پڑھے۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے (یعنی پڑھنے کو) مکروہ جانا۔ کہا: اگر مکروہ جانتے تو روک دیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 12 (498)، سنن النسائی/الافتتاح 27 (916،917)، (تحفة الأشراف: 10825)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/426، 431، 433، 541) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف (زور سے پڑھنے) کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلجان قلب کو ناپسند کیا، سورہ کی قرأت پر صاد کیا، تو سورہ فاتحہ کی قرأت پر بدرجہ اولیٰ پسندیدگی پائی گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 829]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے جبکہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں دیہاتی بھی تھے اور غیر عرب بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جاؤ، سب ہی بہتر ہے۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (قراءت قرآن کو) ایسے سیدھا کریں گے جیسے کہ تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس کا اجر (دنیا میں) جلد ہی لینا چاہیں گے اور (آخرت تک) مؤخر نہیں کریں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10825) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (828)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں