🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. باب فِي رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1327]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: (رات کی نماز میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اس قدر (بلند) ہوتی تھی کہ صحن میں بیٹھا آدمی سن سکتا تھا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں (یعنی کمرے میں) ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الشمائل (321)، مسند احمد 1/271، (تحفة الأشراف: 6177) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1203)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ هُرْمُزُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1328]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کبھی بلند آواز سے اور کبھی دھیمی آواز سے قراءت کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوخالد والبی کا نام ہرمز ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14882) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1202)
صححه ابن خزيمة (1159 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، قَالَ: وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ" قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ" قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ. زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں (ابوبکر و عمر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1329]
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی آواز دھیمی تھی۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ بھی نماز پڑھ رہے تھے، ان کی آواز بلند تھی۔ جب وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا، تم نماز پڑھ رہے تھے اور تمہاری آواز دھیمی تھی؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے جس سے مناجات کی اسے سنایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ حسن رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! اپنی آواز کچھ بلند کیا کرو۔ اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کچھ دھیمی رکھا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 213 (447)، (تحفة الأشراف: 18465، 12088) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» (سورۃ الاسراء: ۱۱۰) نہ بلند آواز سے اور نہ ہی چپکے چپکے پڑھ بلکہ بیچ کی راہ تلاش کر ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1204)
أخرجه الترمذي (447 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1161 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا، وَلِعُمَرَ: اخْفِضْ شَيْئًا، زَادَ:" وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ" قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا» کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1330]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کرتے ہیں مگر اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی آواز قدرے اونچی کرو۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی آواز کچھ دھیمی رکھو۔ اس روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں نے سنا تم کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورت سے پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: یہ ایک عمدہ کلام ہے، اللہ نے اس کے بعض کو بعض کے ساتھ جمع فرما دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب نے درست کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15004) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا، كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي الْحُرُوفِ وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ سورة آل عمران آية 146.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز (تہجد) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورۃ آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورۃ کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ «وكأين من نبي» (آل عمران: ۱۴۶) والی آیت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1331]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص رات کو اٹھا اور قراءت کرنے لگا اور اپنی آواز بلند رکھی۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا» اللہ فلاں پر رحم فرمائے! اس نے آج رات مجھے کتنی ہی آیتیں یاد دلا دیں جن میں مجھے ذہول ہو رہا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کو ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے بیان کیا تو سورۃ آل عمران کی آیت ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ﴾ [سورة آل عمران: 146] نقل کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16877)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل 27 (5042)، والدعوات 19 (6335)، صحیح مسلم/المسافرین 33،(فضائل القرآن) (788) ویأتی ہذا الحدیث برقم (3970) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواه البخاري (2655) ومسلم (788)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فَكَشَفَ السِّتْرَ، وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ، أَوْ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں (یا کہا نماز) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1332]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ اونچی آواز سے قراءت کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: خبردار! تم بلاشبہ سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، مگر کوئی دوسرے کو ہرگز ایذا نہ دے اور قراءت میں اپنی آواز دوسرے پر بلند نہ کرے۔ یا فرمایا: نماز میں (اپنی آواز بلند نہ کرے)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (856)
صححه ابن خزيمة (1162 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے۔ اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل القرآن 20 (2919)، سنن النسائی/قیام اللیل 22 (1662)، والزکاة 68 (2562)، (تحفة الأشراف: 9949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2202)
إسماعيل بن عياش تابعه معاوية بن صالح عند النسائي (2562 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں