سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل
باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا، وَلِعُمَرَ: اخْفِضْ شَيْئًا، زَادَ:" وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ" قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا» کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: ”اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب نے ٹھیک کیا“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1330]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کرتے ہیں مگر اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اپنی آواز قدرے اونچی کرو۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اپنی آواز کچھ دھیمی رکھو۔“ اس روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میں نے سنا تم کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورت سے پڑھ رہے تھے۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایک عمدہ کلام ہے، اللہ نے اس کے بعض کو بعض کے ساتھ جمع فرما دیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب نے درست کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15004) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1330 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي