🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. فَائِدَةُ تَعْجِيلِ عُقُوبَةِ الْحُدُودِ
حدود میں جلد سزا دینے کا فائدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي جُحَيفة، عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابَ حَدًّا فَعَجَّلَ اللهُ له عقوبتَه في الدنيا، فاللهُ أعدلُ من أن يُثنِّيَ على عبده العقوبةَ في الآخرة، ومَن أصابَ حدًّا فَسَتَرَه اللهُ عليه وعَفَا عنه، فاللهُ أكرمُ من أن يعودَ في شيء قد عَفَا عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بأبي جُحَيفة عن علي (2) ، واتفقا على أبي إسحاق، واحتجَّا جميعًا بالحجَّاج بن محمد، واحتجَّ مسلم بيونس بن أبي إسحاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 13 - صحيح الإسناد
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے جس پر حد (شرعی سزا) لازم آتی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں (سزا کی صورت میں) اس کا بدلہ دے دے، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے، اور جس سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے جس پر حد لازم ہو مگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اسے معاف کر دے، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ ایسی چیز کی طرف دوبارہ رجوع کرے جسے وہ معاف کر چکا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، حالانکہ ان دونوں نے علی بن ابی طالب سے ابوجحیفہ کی روایت سے احتجاج کیا ہے، اور ابواسحاق کی روایت پر بھی اتفاق کیا ہے، نیز ان دونوں نے حجاج بن محمد سے بھی احتجاج کیا ہے، جبکہ امام مسلم نے یونس بن ابی اسحاق سے بھی احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 13]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله الجَوهَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يوسف، حدثنا النَّضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة، حدثني أَبي: أنه كان مع رسول الله ﷺ إذ جاءه رجلٌ بفرس له يَقُودُها عَقُوقٍ، ومعها مُهْرة لها تتبعُها، فقال: من أنتَ؟ فقال:"أنا نبيٌّ" قال: ما نبيٌّ؟ قال:"رسولُ الله" قال: متى تقومُ الساعة؟ فقال رسول الله ﷺ:"غَيبٌ، ولا يعلمُ الغيبَ إِلَّا اللهُ" قال: أَرِني، سيفَك، فأعطاه النبيُّ ﷺ سيفَه، فهَزَّه الرجلُ ثم ردَّه عليه، فقال رسول الله ﷺ:"أمَا إنك لم تكن تستطيعُ الذي أردْتَ" قال:"وقد كان قال: أَذهبُ إليه فأسألُه (1) عن هذه الخِصَال" (2) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، وقد اتفقا جميعًا على الحُجَّة بإياس بن سَلَمة عن أبيه، واحتجَّ مسلم بهذا الإسناد بعَينِه فحدَّث عن أحمد بن يوسف بغير حديثٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 14 - على شرط مسلم
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ایک شخص اپنی ایک بانجھ گھوڑی کو ہنکاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے ساتھ اس کی ایک بچھڑی بھی پیچھے پیچھے چل رہی تھی، اس شخص نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ اس نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ اس نے پوچھا: قیامت کب قائم ہوگی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ) غیب ہے، اور اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ اس نے کہا: مجھے اپنی تلوار دکھائیے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار دے دی، اس شخص نے اسے (ہوا میں) لہرایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تم اس کام کی طاقت نہیں رکھتے تھے جس کا تم نے ارادہ کیا تھا (یعنی قتل کا)۔ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے پاس جاؤں گا اور اس سے ان خصلتوں کے بارے میں سوال کروں گا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا «اياس بن سلمه عن ابيه» سے احتجاج کرنے پر اتفاق ہے، اور امام مسلم نے بعینہ اسی سند سے احتجاج کرتے ہوئے احمد بن یوسف سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 14]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں