🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1432
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1432]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی، میں انہیں سفر و حضر میں نہیں چھوڑتا، چاشت کی دو رکعتیں، ہر مہینے میں تین روزے اور یہ کہ وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:14940)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 33 (1178)، والصیام60 (1981)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (721)، سنن النسائی/قیام اللیل 26 (1678)، والصیام 70 (2371)، 81 (2407)، مسند احمد (2/229، 233، 254، 258، 260، 265، 271، 277، 329)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1495)، والصوم 38 (1786) (صحیح) دون قولہ: ”في سفر ولاحضر‘‘» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله في سفر ولا حضر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن و أبو سعيد الأزدي مجھول الحال
و أحاديث البخاري (1178،1981) و مسلم (721) تغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1433]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی، میں انہیں کسی صورت نہیں چھوڑتا۔ مجھے وصیت فرمائی کہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھوں، وتر پڑھ کر سویا کروں اور ضحٰی کے نفل پڑھوں سفر اور حضر میں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:10925)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 13(722)، مسند احمد (6/440، 451) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مگر «حضر و سفر» کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الحضر والسفر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صفوان سمعه من بعض المشيخة عن أبي إدريس كما في مسند أحمد (6/ 440) وحديث مسلم (722) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں رات کے اول حصے میں پڑھتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: اس نے احتیاط کو اختیار کیا ہے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اس نے عزم و قوت کو اختیار کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12092) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں