سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الوتر قبل النوم
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم کب پڑھتے ہو؟“، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کس وقت پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں رات کے اول حصے میں پڑھتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ”میں رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”اس نے احتیاط کو اختیار کیا ہے۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اس نے عزم و قوت کو اختیار کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12092) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1434
| متى توتر قال أوتر من أول الليل وقال لعمر متى توتر قال آخر الليل فقال لأبي بكر أخذ هذا بالحزم وقال لعمر أخذ هذا بالقوة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1434 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1434
1434. اردو حاشیہ: انسان کو ہمیشہ اعتماد والا عمل کرنا چاہیے۔ اگر آخر رات میں اُٹھنا مشکل محسوس ہوتا ہو تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لینے چاہیں۔ اور صبح کو اُٹھ کرتہجد پڑھ لے۔ وتر دہرانے کی ضرورت نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1434]
Sunan Abi Dawud Hadith 1434 in Urdu
عبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي