🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. اخْتَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - الشَّفَاعَةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ شَطْرُ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ
رسولُ اللہ ﷺ نے آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے کے بجائے شفاعت کو اختیار فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
حدَّثناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القَطَّان الرَّقّي بالرَّقّة، حدثنا عبد الرحمن بن حماد أبو بكر الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله بن خالد الواسطي، عن حُميد بن هلال (2) ، عن أبي بُردة، عن أبي موسى (3) ، عن عوف بن مالك: أنهم كانوا مع النبي ﷺ في بعض مغازيه، قال عوف: فسمعتُ خَلْفي هَزِيزًا كَهَزيزِ الرَّحَى، فإذا أنا بالنبي ﷺ، فقلت: إنَّ النبي ﷺ إذا كان في أرض العدوِّ كان عليه الحرسُ، فقال رسول الله ﷺ:"أتاني آتٍ من ربي يخيِّرني بين أن يُدخِلَ شَطْرَ أُمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة"، فقال معاذ بن جبل: يا رسول الله، قد عرفتَ قِوَائي فاجعَلْني منهم، قال:"أنت منهم"، قال عوف بن مالك: يا رسول الله، قد عرفت أنا تَرَكْنا قومَنا وأموالنا رَغَبًا لله ولرسوله، فاجعَلْنا منهم، قال:"أنت منهم"، فانتهينا إلى القوم وقد ثارُوا، فقال النبي ﷺ:"اقعُدُوا" فقعدوا، كأنه لم يَقُمْ أحد منهم، قال:"أتاني آتٍ من ربي فخيَّرني بين أن يُدخِلَ شطرَ أمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة" فقالوا: يا رسول الله، اجعلنا منهم، فقال:"هي لمن مات لا يُشرِكُ بالله شيئًا" (1) .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں تھے، عوف کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پیچھے چکی چلنے جیسی گونج سنی تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ دشمن کی سرزمین میں ہوں تو آپ پر پہرہ ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اس بات میں اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا مجھے شفاعت کا حق ملے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کیا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میری (ایمان کی) پختگی کو جانتے ہیں، مجھے ان شفاعت پانے والوں میں شامل فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے ہو۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اپنے گھر بار اور مال و دولت کو چھوڑا ہے، ہمیں بھی ان میں شامل فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ پھر ہم باقی لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ بیدار ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ تو وہ سب بیٹھ گئے گویا ان میں سے کوئی اٹھا ہی نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے آدھی امت کی جنت یا شفاعت کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان میں شامل فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 226]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں