المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. خَيْرُ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ وَشَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ
زمین کی بہترین جگہیں مسجدیں ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں
حدیث نمبر: 310
حدَّثَناه أبو حفص عمر بن محمد الجُمَحي بمكة في دار أبي بكر الصِّدّيق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إسحاق بن إسماعيل، حدثنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن محارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البِقاع خيرٌ؟ فقال:"لا أدري" فقال: أيُّ البقاع شرٌّ؟ فقال:"لا أدري" فقال: سَلْ ربَّك، قال: فلمّا نزل جبريل قال رسول الله ﷺ:"إني سُئِلتُ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ وأيُّ البقاع شرٌّ؟ فقلت: لا أدري، فقال جبريل: وأنا لا أدري حتى أسألَ ربي"، قال: فانتفَضَ جبريلُ انتفاضةً كادَ أن يَصعَقَ منها محمدٌ ﷺ، فقال الله:"يا جبريل يسألُك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، فسألك: أيُّ البقاع شرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، وإنَّ خيرَ البقاعِ المساجدُ، وشرَّ البقاعِ الأسواقُ" (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! زمین کا کون سا ٹکڑا بہترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم“، اس نے پوچھا: کون سا حصہ بدترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں“، اس نے کہا: اپنے رب سے دریافت فرمائیے؛ پس جب جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ کون سا مقام بہترین ہے اور کون سا بدترین؟ تو میں نے کہا کہ مجھے علم نہیں“، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: اور مجھے بھی علم نہیں یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھ لوں؛ راوی کہتے ہیں کہ اس وقت جبریل علیہ السلام اس طرح کانپے کہ قریب تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو جاتے، پھر اللہ نے فرمایا: ”اے جبریل! محمد آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ بہترین جگہ کون سی ہے؟ اور آپ نے کہا کہ مجھے علم نہیں، پھر انہوں نے پوچھا کہ بدترین جگہ کون سی ہے؟ تو آپ نے کہا کہ مجھے علم نہیں؛ (سنو!) بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔“
اس حدیث کا ایک اور شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 310]
اس حدیث کا ایک اور شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلّا أنَّ عطاء بن السائب اختلط بأَخرة، وسماع جرير - وهو ابن عبد الحميد - منه بعد اختلاطه، ومع ذلك فقد قال الذهبي في "العلو للعلي الغفار" (238): حديث غريب صالح الإسناد؛ فلعله قال ذلك بالنظر إلى ما يقويه من شواهد، إذ أورد قبله ...» [ترقيم الرساله 310] [ترقيم الشركة 305]
الحكم على الحديث: حسن لغيره