🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. يُوشِكُ النَّاسُ أَنْ يَضْرِبُوا أَكْبَادَ الْإِبِلِ فَلَا يَجِدُوا عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ
زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ لمبے سفر کریں گے، اونٹ دوڑائیں گے، لیکن مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں پائیں گ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن جُرَيج. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا سفيان. وأخبرني محمد بن أحمد بن عمر، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا عبد الرحمن بن بِشْر، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يُوشِكُ الناسُ أن يَضرِبوا أكبادَ الإبل، فلا يَجِدُوا عالِمًا أعلمَ من عالِمِ المدينة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد كان ابنُ عيينة ربما يجعله روايةً (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 307 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگ (علم کی تلاش میں) اونٹوں کے جگر ماریں گے (یعنی دور دراز کے سفر کر کے انہیں تیز دوڑائیں گے)، تو وہ مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کسی کو عالم نہیں پائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابن عیینہ بسا اوقات اسے بطورِ روایت (براہِ راست منسوب کر کے) بیان کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 311]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
كما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الجَرَّاحي بمَرْو، حدثنا عَبْدانُ محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا عبد الجبار بن العلاء ومحمد بن ميمون قالا: حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة روايةً قال:"يُوشِكُ الناسُ أن يَضرِبوا أكبادَ الإبل" الحديث. وليس هذا ممّا يُوهِنُ الحديث، فإنَّ الحُميدي هو الحَكَمُ في حديثه لمعرفته به وكَثْرة ملازمته له، وقد كان ابنُ عيينة يقول: نرى هذا العالمَ مالكَ بنَ أنس.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگ اونٹوں کو تیز دوڑائیں گے... (سابقہ حدیث کے مثل)۔
راوی کا اسے کبھی روایت ہے کہنا حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ حمیدی اپنے استاد (سفیان بن عیینہ) کی احادیث کے معاملے میں سب سے زیادہ باخبر اور ان کی طویل صحبت رکھنے والے ہیں، اور ابن عیینہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری رائے میں اس (مدینہ کے) عالم سے مراد امام مالک بن انس ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 312]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو صَخْر، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"مَن جاءَ مسجدَنا هذا يتعلَّمُ خيرًا ويعلِّمُه، فهو كالمجاهد في سبيل الله، ومَن جاءَ بغير هذا، كان كالرجل يَرَى الشيءَ يُعجِبُه وليس له" وربما قال:"يرى المصلِّينَ وليس منهم، ويرى الذَّاكِرينَ وليس منهم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 309 - تابعه حيوة عن أبي صخر وهو على شرطهما ولا أعلم له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری اس مسجد میں کوئی بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد سے آئے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی (عمدہ) چیز کو دیکھتا ہے جو اسے پسند تو آتی ہے مگر وہ اس کی نہیں ہوتی۔ اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وہ نمازیوں کو دیکھتا ہے مگر ان میں سے نہیں ہوتا، اور ذکر کرنے والوں کو دیکھتا ہے مگر ان میں شامل نہیں ہوتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 313]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
حدَّثَناه عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، أخبرني أبو صخر، أنَّ سعيد المقبُري أخبره، أنه سمع أبا هريرة يقول: إنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"مَن دَخَلَ مسجدَنا هذا ليتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه، كان كالمجاهدِ في سبيلِ الله، ومَن دَخَلَه لغير ذلك، كان كالنَّاظرِ إلى ما ليسَ له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2) ثم لم يُخرجاه، ولا أعلمُ له علَّةً! بل له شاهد ثالث على شرطهما جميعًا:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ہماری اس مسجد میں اس لیے داخل ہوا کہ کوئی بھلائی سیکھے یا سکھائے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے، اور جو کسی اور مقصد کے لیے داخل ہوا، وہ اس شخص کی مانند ہے جو اس چیز کو دیکھ رہا ہو جو اس کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے اس میں کوئی علت (نقص) معلوم نہیں ہوتی! بلکہ اس کا ایک تیسرا شاہد بھی ان دونوں کی شرط پر موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 314]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن غَدَا إلى المسجد لا يريدُ إلّا ليتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه، كان له أجرُ معتمرٍ تامِّ العُمْرة، ومَن راحَ إلى المسجد لا يريدُ إلَّا ليتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه، فله أجرُ حاجٍّ تامِّ الحَجَّة" (3) . قد احتَجَّ البخاريُّ بثَوْر بن يزيد في الأصول، وخرَّجه مسلم في الشواهد (4) ، فأما ثور بن زَيْد الدِّيلي فإنه متَّفَق عليه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 311 - على شرط البخاري
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت مسجد کی طرف صرف اس ارادے سے گیا کہ کوئی بھلائی سیکھے یا سکھائے، تو اسے ایک مکمل عمرہ کرنے والے کا اجر ملے گا، اور جو شام کے وقت مسجد کی طرف صرف اس ارادے سے گیا کہ کوئی بھلائی سیکھے یا سکھائے، تو اسے ایک مکمل حج کرنے والے کا اجر ملے گا۔
امام بخاری نے ثور بن یزید سے اصول (بنیادی روایات) میں احتجاج کیا ہے اور امام مسلم نے انہیں شواہد میں ذکر کیا ہے، جہاں تک ثور بن زید دیلی کا تعلق ہے تو وہ (ثقہ ہونے پر) متفق علیہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 315]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں