المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ
دو حریص کبھی سیر نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 316
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، في"مسند أنس"، حدثنا أبو سعد يحيى بن منصور الهَرَوي، حدثنا أحمد بن نصر المقرئ النَّيسابوري. وأخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله الجَوهري، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثني أحمد بن نَصْر، حدثنا سُرَيج بن النعمان، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"منهومانِ لا يَشبَعان: منهومٌ في علمٍ لا يَشبَعُ، ومنهومٌ في دنيا لا يَشبَع" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم أَجِدْ له عِلَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 312 - على شرطهما ولم أجد له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم أَجِدْ له عِلَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 312 - على شرطهما ولم أجد له علة
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو حریص ایسے ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا: ایک علم کا حریص جو کبھی سیر نہیں ہوتا، اور دوسرا دنیا کا حریص جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 316]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 316]
حدیث نمبر: 317
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادِي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا كَهمَس بن الحسن، عن عبد الله بن شَقِيق قال: جاء أبو هريرة إلى كعبٍ يَسأَل عنه وكعبٌ في القوم، فقال كعب: ما تريدُ منه؟ فقال: أمَا إني لا أعرفُ أحدًا من أصحاب رسول الله ﷺ يكون أحفظَ لحديثه منِّي، فقال كعب: أمَا إنك لم تَجِدْ أحدًا يَطلُبُ شيئًا إلّا سيَشبَعُ منه يومًا من الدهر إلّا طالبَ علمٍ، وطالبَ دنيا، فقال: أنت كعب، فإني لِمثْل هذا جئتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقولُ الصحابي: إني لحديثِ رسول الله ﷺ أحفظُ من غيري، يُخرَّج في مسانيده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 313 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقولُ الصحابي: إني لحديثِ رسول الله ﷺ أحفظُ من غيري، يُخرَّج في مسانيده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 313 - فيه انقطاع
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب (احبار) کے پاس آئے اور ان کے بارے میں دریافت کیا جبکہ کعب اسی مجلس میں موجود تھے، کعب نے پوچھا: آپ ان سے کیا چاہتے ہیں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد رکھنے والا ہو۔“ کعب نے جواب دیا: ”سنئے! آپ کسی بھی چیز کے طلبگار کو ایسا نہیں پائیں گے جو کسی نہ کسی دن اس سے اکتا نہ جائے سوائے علم کے طالب اور دنیا کے طالب کے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ ہی کعب ہیں (جو اتنی گہری بات کر رہے ہیں)، میں ایسی ہی باتوں (کی تصدیق) کے لیے آیا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور کسی صحابی کا یہ کہنا کہ ”میں دوسرے سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والا ہوں“، ان کی مسانید میں ذکر کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 317]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور کسی صحابی کا یہ کہنا کہ ”میں دوسرے سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والا ہوں“، ان کی مسانید میں ذکر کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 317]