🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ
تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثنا خالد بن مَعْدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، عن العِرْباض بن سارِيَة قال: صلَّى لنا رسول الله ﷺ صلاةَ الصبح، ثم أقبلَ علينا فوَعَظَنا مَوعِظةً وَجِلَت منها القلوب، وذَرَفَت منها العيون، فقلنا: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّعٍ، فأَوصِنا، قال:"أُوصِيكُم بتقوى الله والسمعِ والطاعةِ وإنْ أُمّرَ عليكم عبدٌ (1) ، فإنه من يَعِشْ منكم فسيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ الراشدين المهديِّين، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإياكم ومُحدَثاتِ الأمور، فإنَّ كلَّ بِدْعةٍ ضلالةٌ" (2) .
هذا حديث صحيح ليس له علَّة، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعبد الرحمن بن عمرو وثَوْر بن يزيد، وروى هذا الحديث في أول كتاب الاعتصام بالسُّنة (3) ، والذي عندي أنهما رحمهما الله توهما أنه ليس له راوٍ عن خالد بن مَعْدانَ غير ثور بن يزيد، وقد رواه محمد بن إبراهيم بن الحارث المخرَّج حديثُه في"الصحيحين" عن خالد بن مَعْدان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 329 - صحيح ليس له علة
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف رخِ مبارک کر کے ہمیں ایسا رقت آمیز وعظ فرمایا جس سے دل لرز گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور (حکمران کی بات) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر کیوں نہ بنا دیا جائے، کیونکہ جو تم میں سے (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لینا، اسے اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لینا، اور (دین میں) نئی پیدا شدہ باتوں سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، امام بخاری نے عبدالرحمن بن عمرو اور ثور بن یزید سے احتجاج کیا ہے اور اس حدیث کو اپنی کتاب الاعتصام بالسنۃ کے شروع میں ذکر کیا ہے، اور میرے نزدیک ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کو یہ وہم ہوا کہ خالد بن معدان سے ثور بن یزید کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں ہے، حالانکہ اسے محمد بن ابراہیم بن حارث نے بھی خالد بن معدان سے روایت کیا ہے جن کی حدیث شیخین میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 333]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
حدَّثَناه أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس الحَنظَلي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الليث، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن خالد بن مَعْدانَ، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العِرْباض بن ساريةَ، من بني سُلَيم من أهل الصُّفّة، قال: خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقام فوَعَظَ الناس، ورغَّبهم وحذَّرهم، وقال ما شاء اللهُ أن يقول، ثم قال:"اعبُدوا اللهَ ولا تُشركوا به شيئًا، وأَطِيعوا مَن وَلَّاه اللهُ أمرَكم، ولا تُنازِعُوا الأمرَ أهلَه ولو كان عبدًا أسودَ، وعليكم بما تَعرِفون من سُنَّة نبيِّكم والخُلفاءِ الراشدين المهديِّين، وعَضُّوا على نَواجِذِكم بالحق" (1) . هذا إسناد صحيح على شرطهما جميعًا، ولا أعرفُ له علَّةً. وقد تابع ضَمْرةُ بنُ حبيب خالدَ بنَ مَعْدانَ على رواية هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 330 - على شرطهما ولا أعرف له علة
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ (جو کہ بنو سلیم سے تھے اور اہل صفہ میں شامل تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگوں کو وعظ فرمایا جس میں رغبت بھی دلائی اور (برے انجام سے) ڈرایا بھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اس شخص کی اطاعت کرو جسے اللہ تمہارے معاملے کا ذمہ دار بنا دے، اور صاحبِ اقتدار سے اقتدار کے معاملے میں جھگڑا نہ کرو اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اور تم پر لازم ہے کہ اپنے نبی کی سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو پہچانو اور اس حق پر اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي. وأخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد؛ قالا: حدثنا أبو صالح، عن معاوية بن صالح. وأخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرحمن - يعني ابن مَهدِي - عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حَبيب، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، أنه سمع العِرباضَ بن ساريةَ قال: وَعَظَنا رسولُ الله ﷺ مَوعِظةً ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقلنا: يا رسول الله، إنَّ هذا لموعظةُ مودِّع، فماذا تَعهَدُ إلينا، قال:"قد تَركتُكم على البيضاءِ ليلِها كنهارِها، لا يَزيغُ عنها بعدي إلّا هالك، ومَن يَعِشْ منكم فسَيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بما عرفتُم من سُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ المهديِّين الراشدين من بعدي، وعليكم بالطاعة وإنْ عبدًا حبشيًّا، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ" (1) . فكان أسدُ بن وَدَاعةَ يزيد في هذا الحديث:"فإنَّ المؤمن كالجَمَل الأَنِفِ، حيثما قِيدَ انقاد" (2) . وقد تابع عبدَ الرحمن بنَ عمرو على روايته عن العِرْباض بن ساريةَ ثلاثةٌ من الثّقات الأثبات من أئمة أهل الشام، منهم حُجْر بن حُجر الكَلَاعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور دل کانپ اٹھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی نصیحت لگتی ہے، آپ ہمیں کیا عہد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ایک ایسے روشن راستے (اسلام) پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح (واضح) ہے، میرے بعد اس سے صرف وہی ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا، اور تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرو جسے تم پہچانتے ہو، اور اطاعت کو لازم پکڑو اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اسے اپنی ڈاڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو۔ اس حدیث میں اسد بن وداعہ یہ اضافہ کرتے تھے کہ بے شک مومن اس اونٹ کی طرح ہے جس کی ناک میں نکیل ہو، جہاں اسے لے جایا جائے وہ وہیں چلا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا موسى بن أيوب النَّصِيبي وصفوان بن صالح الدِّمشقي قالا: حدثنا الوليد بن مسلم الدمشقي، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني خالد بن مَعْدان، حدثني عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي وحُجْر بن حُجْر الكَلَاعي قالا: أتينا العِرباضَ بن ساريةَ، وهو ممَّن نَزَلَ فيه: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ [التوبة: 92] ، فسلَّمْنا وقلنا: أتيناك زائرينَ ومُقتبسِين، فقال العرباضُ: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ ذات يومٍ، ثم أقبَلَ علينا فوعَظَنا موعظةً بليغةً، ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّع، فما تَعهَدُ إلينا، فقال:"أُوصِيكُم بتقوى الله والسَّمع والطاعة، وإنْ عبدًا حَبَشيًّا، فإنه مَن يَعِشْ منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخُلفاء الراشدين المَهديِّين، فتمسَّكُوا بها، وعَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم ومُحدَثاتِ الأُمور، فإنَّ كل محدَثةٍ بدعةً، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ" (1) . ومنهم يحيى بن أبي المُطاع القرشي:
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام کریں اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے آنسو بہا رہی تھیں کہ وہ (جہاد میں) خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے [سورة التوبة: 92] ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور پھر ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل دہل گئے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تقویٰ الہی اور (حکمران کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو جئے گا وہ شدید اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے پر کاربند رہنا، اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اور اسے ڈاڑھوں سے تھام لینا، اور دین میں نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 336]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں