🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ، أَوَّلُ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْخُشُوعُ
یہ وہ زمانہ ہے جب علم لوگوں سے چھن جائے گا، سب سے پہلے خشوع اٹھا لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه جُبير، عن أبي الدَّرداء قال: كنا مع رسول الله ﷺ فشَخَصَ ببصرِه إلى السماء، ثم قال:"هذا أوانُ يُختَلَسُ العلمُ من الناس، حتى لا يَقدِرُوا منه على شيءٍ"، قال: فقال زياد بن لَبِيد الأنصاري: يا رسول الله، وكيف يُختلَسُ منا وقد قرأْنا القرآن؟ فوالله لنَقرَأنَّه ولنُقرِئنَّه نساءَنا وأبناءَنا، فقال:"ثَكِلَتكَ أمُّك يا زياد، إني كنت لَأعدُّك من فقهاءِ أهل المدينة، هذا التوراةُ والإنجيلُ عند اليهود والنصارى، فماذا يُغْني عنهم؟!". قال جُبير: فَلِقيتُ عُبادةَ بن الصَّامت، فقلت له: ألا تَسمَعُ ما يقول أخوك أبو الدرداء؟ وأخبرتُه بالذي قال، قال: صَدَقَ أبو الدرداء، إن شئتَ لأحدِّثُك بأول علم يُرفَعُ من الناس: الخشوعُ، يُوشِكُ أن تَدخُلَ مسجدَ الجماعة فلا ترى فيه رجلًا خاشعًا (1) . هذا إسناد صحيح من حديث المِصريِّين. وفيه شاهدٌ رابع على صحة الحديث وهو عُبادة بن الصامت، ولعلَّ متوهمًا يتوهَّم أنَّ جبير بن نفير رواه مرةً عن عوف بن مالك الأشجعي، ومرةً عن أبي الدرداء، فيصيرُ به الحديث معلولًا، وليس كذلك، فإنَّ رواة الإسنادين جميعًا ثقات، وجُبير بن نُفير الحضرمي من أكابر تابعي الشام، فإذا صحَّ الحديث عنه بالإسنادين جميعًا، فقد ظَهَرَ أنه سمعه من الصحابيَّينِ جميعًا، والدليل الواضح على ما ذكرتُه أنَّ الحديث قد رُوِيَ بإسناد صحيح عن زياد بن لَبِيد الأنصاري الذي ذَكَرَ مراجعةَ رسول الله ﷺ في الحديثين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 338 - إسناده صحيح
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھیں گے، تو سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے علم کیسے چھین لیا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھ لیا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور پڑھیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے (عربوں کا ایک محاورہ)، میں تو تجھے اہل مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا، یہ دیکھو تورات اور انجیل یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہے، تو ان کتابوں نے انہیں کیا فائدہ پہنچایا (جب انہوں نے ان پر عمل چھوڑ دیا)؟ جبیر کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ آپ کے بھائی ابو الدرداء کیا کہہ رہے ہیں؟ اور میں نے انہیں وہ بات بتائی جو انہوں نے کہی تھی؛ عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو الدرداء نے سچ کہا، اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس پہلے علم کے بارے میں بتا دوں جو لوگوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ ’خشوع‘ ہے، قریب ہے کہ تم جامع مسجد میں داخل ہو اور تمہیں وہاں کوئی ایک شخص بھی خاشع نظر نہ آئے۔
یہ مصریوں کی روایت سے ایک صحیح سند ہے، اور اس میں حدیث کی صحت پر چوتھا شاہد سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں، اور شاید کسی کو یہ وہم ہو کہ جبیر بن نفیر نے اسے کبھی عوف بن مالک سے اور کبھی ابو الدرداء سے روایت کیا ہے جس سے یہ حدیث معلول ہو جائے گی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ دونوں اسناد کے راوی ثقہ ہیں اور جبیر بن نفیر شامی تابعین کے اکابر میں سے ہیں، پس جب ان سے دونوں اسناد کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے تو واضح ہے کہ انہوں نے اسے دونوں صحابہ سے سنا ہے، اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ یہی حدیث صحیح سند کے ساتھ زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جن کا ذکر دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکالمے کے حوالے سے آیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 342]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن لَبِيد الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"هذا أوانُ ذهابِ العِلْم" - قال شعبة: أو قال:"أوانُ انقطاع العِلْم" - قالوا: كَيفَهْ وفينا كتابُ الله نعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم؟ قال:"ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ لَبيدٍ، ما كنتُ أحسَبُك إلَّا من أعقلِ أهلِ المدينة، أليس اليهودُ والنصارى فيهم كتابُ الله التوراةُ والإنجيلُ لم يَنتفِعوا منه بشيءٍ" (1) . قد ثَبَتَ الحديثُ بلا ريبٍ فيه برواية زياد بن لَبِيد بمثل هذا الإسناد الواضح.
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے (شعبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کے منقطع ہونے کا وقت ہے) صحابہ نے عرض کیا: وہ کیسے؟ جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اسے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید! تمہاری ماں تم پر روئے، میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے ہو، کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں؟ لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
زیاد بن لبید کی اس واضح سند کے ساتھ یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں