المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. هذا أوان يختلس العلم من الناس ، أول علم يرفع من الناس الخشوع
یہ وہ زمانہ ہے جب علم لوگوں سے چھن جائے گا، سب سے پہلے خشوع اٹھا لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 343
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن لَبِيد الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"هذا أوانُ ذهابِ العِلْم" - قال شعبة: أو قال:"أوانُ انقطاع العِلْم" - قالوا: كَيفَهْ وفينا كتابُ الله نعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم؟ قال:"ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ لَبيدٍ، ما كنتُ أحسَبُك إلَّا من أعقلِ أهلِ المدينة، أليس اليهودُ والنصارى فيهم كتابُ الله التوراةُ والإنجيلُ لم يَنتفِعوا منه بشيءٍ" (1) . قد ثَبَتَ الحديثُ بلا ريبٍ فيه برواية زياد بن لَبِيد بمثل هذا الإسناد الواضح.
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے“ (شعبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کے منقطع ہونے کا وقت ہے“) صحابہ نے عرض کیا: وہ کیسے؟ جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اسے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تم پر روئے، میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے ہو، کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں؟ لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔“
زیاد بن لبید کی اس واضح سند کے ساتھ یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 343]
زیاد بن لبید کی اس واضح سند کے ساتھ یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 343]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 343 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد رجاله ثقات، وسالم بن أبي الجعد قال فيه البخاري في "التاريخ الكبير" 3/ 344: لا أُراه سمع من زياد، وجزم الحافظ ابن حجر في "الإصابة" بأنه لم يلقه.
⚖️ درجۂ حدیث: ماقبل کی روایات کے شاہد سے یہ "صحیح" ہے، اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (3/ 344) میں صراحت کی ہے کہ ان کے خیال میں سالم بن ابی الجعد کا حضرت زیاد سے سماع ثابت نہیں، بلکہ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" میں حتمی طور پر لکھا ہے کہ ان کی آپس میں ملاقات ہی نہیں ہوئی۔
والحديث في "مسند أحمد" 29/ (17920).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" کی جلد 29، حدیث نمبر (17920) میں موجود ہے۔
وسيأتي من طريق الأعمش برقمي (6643) و (6695/ 3).
📝 نوٹ / توضیح: یہی روایت امام اعمش کے طریق سے آگے چل کر رقم (6643) اور (3/ 6695) پر دوبارہ آئے گی۔