🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا
فرض نماز سے فرض نماز، جمعہ سے جمعہ، اور مہینہ سے مہینہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 417
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن عبد الله بن السائب الأنصاري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الصلاةُ المكتوبةُ إلى الصلاة المكتوبة التي بعدها كفَّارةٌ لما بينهما، والجُمُعة إلى الجمعة، والشهرُ إلى الشهر - من شهر رمضانَ إلى شهر رمضان - كفَّارةٌ لما بينهما"، ثم قال بعد ذلك:"إلّا من ثلاث"، فعرفتُ أنَّ ذلك من أمرٍ حَدَثَ، فقال:"إلّا من الإشراك بالله، ونَكْثِ الصَّفْقة، وتَرْكِ السُّنَّة" قلت: يا رسول الله، أمّا الإشراك بالله فقد عَرَفْناه، فما نَكْثُ الصَّفْقة وتركُ السُّنّة؟ قال:"أمّا نَكْثُ الصَّفْقة: أن تبايعَ رجلًا بيمينِك، ثم تُخالِفَ إليه فتقابلَه بسيفك، وأمّا تركُ السُّنّةِ: فالخروجُ من الجماعة" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بعبد الله بن السائب بن أبي السائب الأنصاري (1) ، ولا أعرفُ له علَّةً. الحديث التاسع في أنَّ الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 412 - على شرط مسلم ولا أعرف له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فرض نماز سے دوسری فرض نماز تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ، اور ایک مہینہ (رمضان) سے دوسرا رمضان گناہوں کا کفارہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے تین گناہوں کے، تو میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی خاص بات ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، عہد و بیعت کو توڑنا، اور سنت کو چھوڑ دینا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرک تو ہم جانتے ہیں، یہ عہد توڑنا اور سنت چھوڑنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عہد توڑنا یہ ہے کہ تم کسی شخص (امیر) کے ہاتھ پر بیعت کرو پھر اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جاؤ، اور سنت چھوڑنا یہ ہے کہ جماعت سے نکل جاؤ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 417]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں