🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. قَوْلُ حَفْصَةَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَجَوَابُهَا فِي شِدَّةِ عَيْشِهِ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے سخت طرزِ زندگی پر مکالمہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 429
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري بمرو، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن أخيه، عن مصعب بن سعد: أنَّ حَفْصةَ قالت لعمر: ألا تَلْبَسُ ثوبًا أليَنَ من ثوبك، وتأكلُ طعامًا أطيبَ من طعامك هذا، وقد فَتَحَ اللهُ عليك الأمرَ وأوسَعَ إليك الرّزق؟ فقال: سأخاصمُك إلى نفسك، فَذَكَرَ أمر رسول الله ﷺ وما كان يلقى من شِدَّة العيش، فلم يَزَلْ يَذكُرُ حتى بَكَتْ، فقال: إني قد قلت لأُشارِكنَّهما في مثل عيشهما الشديد، لعلي أُدرِكُ معهما عيشَهما الرِّخِيَّ (3) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، فإنَّ مصعب بن سعد كان يدخل على أزواج النبي ﷺ، وهو من كبار التابعين من أولاد الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 424 - فيه انقطاع
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کاش! آپ اپنے اس لباس سے زیادہ نرم لباس پہنتے اور اس کھانے سے زیادہ لذیذ کھانا کھاتے، جبکہ اللہ نے آپ کو فتح عطا فرمائی ہے اور رزق میں وسعت دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں تمہاری اپنی ذات سے تمہارا فیصلہ کرواؤں گا، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت زندگی کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ حفصہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں؛ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں اپنے دونوں ساتھیوں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) جیسی سخت زندگی میں شریک رہوں تاکہ (آخرت میں) ان کے ساتھ خوشحال زندگی پا سکوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، مصعب بن سعد کبار تابعین میں سے ہیں اور امہات المؤمنین کے پاس جایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،، إن كان مصعب بن سعد سمعه من حفصة بنت عمر، وإلّا فهو مرسل- أخو إسماعيل: هو النعمان بن أبي خالد كما جاء مسمًّى في رواية محمد بن بشر في بعض المصادر، ووثَّقه العجلي، وقال أحمد في "سؤالات المرُّوذي" (194): ليس به بأس، وذكره ابن أبي حاتم في، ...» [ترقيم الرساله 429] [ترقيم الشركة 423] [ترقيم العلميه 424]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں