🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. (خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ)
درگزر سے کام لو اور نیکی کا حکم دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
أخبرَناه عَبْدانُ بن يزيد الدَّقّاق، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا وكيع، عن ابن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير قال: ما أَنزَلَ اللهُ هذه الآية إلّا في أخلاق الناس: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [الأعراف: 199] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقد قيل في هذا: عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وليس من شرطه.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 199] لوگوں کے اخلاق ہی کے بارے میں نازل فرمائی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 436]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن بهز بن حَكِيم، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبي ﷺ حَبَسَ رجلًا من قومه في تُهْمة، فجاء رجلٌ من قومه إلى النبي ﷺ وهو يخطُب فقال: يا محمد علامَ تَحبِسُ جِيرَتي؟ فَصَمَتَ النبي ﷺ، وقال: إِنَّ أناسًا يقولون: إنك تَنَهى عن الشرَّ وتَستَخْلي به، فقال النبي ﷺ:"ما تقولُ؟" فجعلتُ أعرِّضُ بينهما بالكلام مخافةَ أن يفهمَها فيَدعُوَ على قومي دعوةً لا يفلحون بعدها، فلم يَزَلِ النبيُّ ﷺ حتى فَهِمَها فقال:"قد قالوا - أو قائلُها منهم -؟ والله لو فعلتُ لكان عليَّ ما كان عليهم خَلُّوا عن جيرانِه" (1) . قد تقدَّم (2) القولُ في صحيفة بَهْز بن حَكِيم ما أغنى عن إعادته، على أن شواهد هذا الحديث مخرَّجة في"الصحيحين". فمنها: حديث الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله: قَسَمَ رسولُ الله ﷺ قَسْمًا، فقال رجل من الأنصار: إنَّ هذه قسمة ما أُريدَ بها وجهُ الله (1) . ومنها: حديث مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس: كنتُ أمشي مع رسول الله ﷺ وعليه بُرْدٌ نجرانيٌّ غليظُ الحاشية، فجَبَذَ أعرابي بُرْدتَه … الحديث (2) . ومنها: حديث شَريك بن عبد الله بن أبي نَمِرٍ عن أنس في قصة حُنَين: علامَ تَضطَرُّوني إلى هذه الشجرة (3) . وغير هذا مما يطول ذِكرُه.
بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے ایک شخص کو کسی الزام کے تحت قید کر لیا، تو ان کی قوم کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آیا جب آپ خطبہ دے رہے تھے اور کہا: اے محمد! آپ نے میرے پڑوسیوں کو کس جرم میں قید کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر اس نے دوبارہ کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ برائی سے روکتے ہیں اور خود تنہائی میں اسے کرتے ہیں (معاذ اللہ)؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ تو میں (راوی) ان کے درمیان بات کا رخ بدلنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات سمجھ کر میری قوم کے لیے بددعا نہ کر دیں جس کے بعد وہ کبھی فلاح نہ پائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات سمجھ گئے اور فرمایا: کیا انہوں نے ایسا کہا ہے (یا اس نے ایسا کہا ہے)؟ اللہ کی قسم! اگر میں ایسا کروں تو میرا حال بھی ویسا ہی ہو (جو بروں کا ہوتا ہے)، اس کے پڑوسیوں کو رہا کر دو۔
بہز بن حکیم کے صحیفہ کے بارے میں گفتگو پہلے ہو چکی ہے، اور اس حدیث کے شواہد صحیحین میں موجود ہیں (جیسے نجرانی چادر والا واقعہ اور غزوہ حنین کا قصہ)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 437]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں