🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. خُطْبَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَمَا وَلِيَ النَّاسَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ خطبہ جو خلافت سنبھالنے کے بعد دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سهل بِشْر بن سهل، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثني يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن حَرْمَلة الأسلَمي، عن سعيد بن المسيّب قال: لمّا وَلِيَ عمرُ بن الخطَّاب خَطَبَ الناسَ على مِنبَر رسول الله ﷺ، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس، إني قد علمتُ أنكم تُؤنِسون مني شِدَّةً وغِلظةً، وذلك أني كنتُ مع رسول الله ﷺ فكنت عبدَه وخادَمه، وكان - كما قال الله - بالمؤمنين رؤوفًا رحيمًا، فكنت بين يديهِ كالسيفِ المسلول إلّا أن يَغمِدَني أو ينهاني عن أمرٍ، فأكُفَّ، وإلّا أقدمتُ على الناس لمكان لِينِه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو صالح فقد احتَجَّ به البخاري، فأما سماع سعيد عن عمر فمُختلَف فيه، وأكثر أئمَّتِنا على أنه قد سمع منه، وهذه ترجمة معروفة في المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 434 - حديث منكر
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں جانتا ہوں کہ تم مجھ میں سختی اور درشتی محسوس کرتے ہو، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کا خادم و غلام تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ اللہ نے فرمایا مؤمنوں پر نہایت شفیق اور مہربان تھے، تو میں آپ کے سامنے برہنہ تلوار کی طرح تھا (سخت گیر تھا) الا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میان میں کر دیتے یا روک دیتے تو میں رک جاتا، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی کی وجہ سے میں لوگوں پر سختی کرتا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری نے ابوصالح سے احتجاج کیا ہے، سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع اگرچہ اختلافی ہے مگر اکثر ائمہ کے نزدیک ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں