🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. صِفَةُ وُضُوئِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسولُ اللہ ﷺ کے وضو کی کیفیت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبدُوس العَنَزي (3) ، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسَدي؛ قالا: حدثنا خلَّاد بن يحيى السُّلَمي، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار [قال: قال ابن عباس: ألا أُريكم كيف كان رسول الله ﷺ يتوضأ؟] (1) فدعا بإناءٍ فيه ماءٌ فاغترف غُرفةً فمَضمَضَ واستنشق، ثم أخذ أخرى فجَمَعَ بها يديه فغَسَلَ وجهَه، ثم أخذ أخرى فغسل يدَه اليمنى، ثم أخذ غُرفةً أخرى فغسل يدَه اليسرى، ثم قَبَضَ قَبْضةً من الماء فنَفَضَ يدَه، فمسح بها رأسَه وأُذنيه، ثم اغترف غُرفةً أخرى فرَشَّ على رجلِه اليمنى وفيها النعلُ، واليسرى مثل ذلك، ومسح بأسفل النَّعلَينِ، ثم قال: هكذا وضوءُ رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (3) على حديث زيد بن أسلم عن عطاء عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ مرةً مرةً، وهو مُجمَل، وحديث هشام بن سعد هذا مفسَّر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 521 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے؟ پھر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا، ایک چلو پانی لیا، اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر دوسرا چلو لے کر دونوں ہاتھوں کو ملایا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر اسے جھٹکا اور اس سے اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا اور اسے اپنے دائیں پاؤں پر چھڑکا جبکہ وہ جوتے پہنے ہوئے تھے، اور بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا اور جوتوں کے نچلے حصے کا مسح کیا، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے اس بات پر تو اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضاء دھوئے لیکن وہ روایت مختصر ہے جبکہ ہشام بن سعد کی یہ روایت اس کی مکمل تفصیل بیان کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 528]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں