المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ
کسی مؤمن مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب یا پاخانے کے دباؤ کی حالت میں نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حَدَّثَنَا يوسف بن موسى المَروَالرُّوذيُّ، حَدَّثَنَا محمود بن خالد الدمشقي، حَدَّثَنَا شعيب بن إسحاق، عن ثَوْر بن يزيد، عن يزيد بن شُريح الحضرمي، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"لا يَحِلُّ لرجلٍ يؤمنُ بالله واليوم الآخَر أن يصليَ وهو حَقِنٌ حتَّى يخفِّفَ" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ (پیشاب یا پاخانہ) روک کر اس حال میں نماز پڑھے کہ اسے سخت حاجت ہو، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو کر ہلکا نہ ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 607]
حدیث نمبر: 608
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد، حدَّثني أبي؛ قالا: حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن أبي حَزْرة، حَدَّثَنَا عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن القاسم بن محمد قال: كنا عند عائشة فجِيءَ بطعامها، فقام القاسم بن محمد يصلي، فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يُصلَّى بحَضْرة الطعام، ولا وهو يدافعُه الأخبَثانِ" (1) .
سیدنا قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے کہ ان کا کھانا لایا گیا، قاسم بن محمد نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب اور پاخانے کی سخت حاجت ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 608]
حدیث نمبر: 609
أخبرنا أزهَرُ بن أحمد بن حَمدُون المُنادِي ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عَتَّاب سهل بن حماد، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: جاءنا رسولُ الله ﷺ، فأخرَجْنا له ماءٌ في تَوْرٍ من صُفْرٍ فتوضأ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیتل کے ایک برتن میں پانی نکالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 609]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 609]
حدیث نمبر: 610
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور، عن حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أغتسلُ أنا ورسولُ الله ﷺ فِي تَوْرٍ من شَبَهٍ (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتل کے ایک برتن سے (ایک ساتھ) غسل کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 610]