🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. لَا تَقْضِي النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ صَلَاةَ أَيَّامِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ
نفاس والی اور حائضہ عورت ایامِ حیض و نفاس کی نمازوں کی قضا نہیں کرے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 631
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، عن يونس بن نافع، عن كَثِير بن زياد أبي سَهْل قال: حدثتني مُسَّةُ الأزديَّة قالت: حَجَجْتُ فدخلتُ على أمّ سلمة فقلت: يا أمّ المؤمنين، إنَّ سَمُرةَ بن جُندب يأمر النساءَ يَقضِينَ صلاةَ المَحِيض، فقالت: لا يَقضِينَ، كانت المرأة من نساء النَّبِيِّ ﷺ تَقعُدُ في النِّفَاس أربعين ليلةً لا يأمُرها النَّبِيّ ﷺ بقضاء صلاة النِّفاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ في معناه غيرَ هذا. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 622 - صحيح
مسہ ازدیہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حج کیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی: اے ام المؤمنین! سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں، انہوں نے فرمایا: وہ قضا نہ کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے جو عورت نفاس کی حالت میں ہوتی تھی وہ چالیس راتیں بیٹھی رہتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نفاس کی نمازیں قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 631]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 632
ما حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا زُهير، حَدَّثَنَا علي بن عبد الأعلى، عن أبي سَهْل، عن مُسَّة، عن أمّ سلمة قالت: كانت النُّفَساءُ على عهد رسول الله ﷺ تَقعُدُ بعد نِفاسِها أربعين يومًا أو أربعين ليلةً، وكنا نَطْلي على وجوهنا الوَرْسَ؛ يعني من الكَلَف (2) .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں نفاس والی عورتیں چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھی رہتی تھیں، اور ہم (زچگی کے بعد) چہرے پر چھائیوں کی وجہ سے «الوَرْسَ» یعنی ورس نامی بوٹی کا لیپ کیا کرتی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 632]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القَنطَري ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم النَّبيل، حَدَّثَنَا عثمان بن سعد القرشي، حَدَّثَنَا ابن أبي مُلَيكة قال: جاءت خالتي فاطمةُ بنت أبي حُبَيش إلى عائشة فقالت: إني أخاف أن أقعَ في النار، إني أدَعُ الصلاةَ السنةَ والسنتين، لا أُصلي، فقالت: انتظري حتَّى يجيءَ النَّبِيُّ ﷺ، فجاء فقالت عائشة: هذه فاطمةُ تقول كذا وكذا، فقال لها النَّبِيّ ﷺ:"قولي لها فلتَدعِ الصلاةَ في كل شهر أيامَ قُرونها ثم لتَعْتَسِلْ في كل يوم غُسلًا واحدًا، ثم الطُّهورُ عند كل صلاة، ولتنظِّفْ ولتَحْتشِ، فإنما هو داءٌ عَرَضَ، أو رَكْضَةٌ من الشيطان، أو عِرقُ انقَطَع" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (2) ، وعثمان بن سعد الكاتب بصري ثقةٌ عزيزٌ الحديث يُجمَع حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 623 - كلا
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور عرض کی: میں آگ (جہنم) میں گرنے سے ڈرتی ہوں کیونکہ میں ایک ایک دو دو سال نماز چھوڑ دیتی ہوں، انہوں نے کہا: ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو سیدہ عائشہ نے صورتحال بتائی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کرے، پھر ہر روز ایک غسل کر لیا کرے، پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے، صفائی کرے اور لنگوٹ باندھ لے، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے یا شیطان کی طرف سے مار ہے یا کسی رگ کے کٹ جانے کی وجہ سے ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد بصری ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 633]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں