المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ
اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز پا لے تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لے، وہ اس کے لیے نفل ہوگی۔
حدیث نمبر: 809
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابق الخولاني قال: قُرئَ على عبد الله بن وهب: أخبركَ مالكُ بن أنس. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذاني بها، حدثنا إسحاق بن أحمد الخزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت مالك بن أنس يحدِّث عن زيد بن أسلم، عن بُسْر بن مِحجَن - رجل من بني الدِّيل - عن أبيه: أنه كان جالسًا مع رسول الله ﷺ فأُوذِنَ بالصلاة، فقام رسول الله ﷺ فصلَّى ثم رَجَعَ ومِحجَنٌ في مجلسه كما هو، فقال له رسول الله ﷺ:"ما مَنَعَك أن تصلِّيَ مع الناس، ألست برجلٍ مسلمٍ؟" قال: بلى يا رسول الله، ولكني يا رسول الله كنت قد صلَّيتُ في أهلي، قال:"فإذا جئتَ فصلِّ مع الناس، وإن كنت قد صلَّيتَ" (1)
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ نماز کے لیے پکارا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھا کر واپس آئے تو محجن اپنی جگہ پر بیٹھے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میں نے اپنے گھر والوں میں نماز پڑھ لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (مسجد) آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو خواہ تم پہلے پڑھ چکے ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 809]
حدیث نمبر: 810
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، فذكره بنحوه.
هذا حديث صحيح، ومالكُ بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين، وقد احتَجَّ به في"الموطأ" (1) ، وهو من النوع الذي قدَّمتُ ذِكرَه أنَّ الصحابي إذا لم يكن له راويان لم يخرجاه (2) . وله شاهد مثلُ هذا النوع بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 891 - محجن تفرد عنه ابنه
هذا حديث صحيح، ومالكُ بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين، وقد احتَجَّ به في"الموطأ" (1) ، وهو من النوع الذي قدَّمتُ ذِكرَه أنَّ الصحابي إذا لم يكن له راويان لم يخرجاه (2) . وله شاهد مثلُ هذا النوع بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 891 - محجن تفرد عنه ابنه
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک بن انس مدنی احادیث کے مستند امام ہیں، یہ ان روایات میں سے ہے جہاں صحابی کا صرف ایک ہی راوی ہو جس کی وجہ سے شیخین اسے روایت نہیں کرتے، مگر اس کا شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 810]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک بن انس مدنی احادیث کے مستند امام ہیں، یہ ان روایات میں سے ہے جہاں صحابی کا صرف ایک ہی راوی ہو جس کی وجہ سے شیخین اسے روایت نہیں کرتے، مگر اس کا شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 810]
حدیث نمبر: 811
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا يزيد بن الهيثم، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجعي، عن سفيان، عن يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد بن الأسوَد، عن أبيه قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ، بمِنى، فلمَّا سلَّمَ أبصَرَ رجلين في أواخر الناس فدَعَاهما، فقال:"ما مَنَعَكما أن تُصلِّيا مع الناس؟" فقالا: يا رسول الله، صلَّينا في الرِّحَال، قال:"فلا تَفعَلا، إذا صلَّى أحدُكم في رَحْلِه ثم أدرك الصلاة مع الإمام، فليُصلِّها معه، فإنها له نافلةٌ" (3) .
هذا حديث رواه شُعْبة وهشام بن حسَّان وغَيْلان بن جامع وأبو خالد الدَّالاني وأبو عَوَانة وعبد الملك بن عُمَير ومبارَك بن فَضَالة وشَرِيك بن عبد الله وغيرهم عن يعلى بن عطاء، وقد احتَجَّ مسلم بيعلى بن عطاء.
هذا حديث رواه شُعْبة وهشام بن حسَّان وغَيْلان بن جامع وأبو خالد الدَّالاني وأبو عَوَانة وعبد الملك بن عُمَير ومبارَك بن فَضَالة وشَرِيك بن عبد الله وغيرهم عن يعلى بن عطاء، وقد احتَجَّ مسلم بيعلى بن عطاء.
جابر بن یزید بن اسود اپنے والد (یزید بن اسود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں کے پیچھے دو آدمیوں کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور پوچھا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے ڈیروں (خیموں) میں نماز پڑھ لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز (کا وقت) پا لے، تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل ہوگی۔“
یہ حدیث یعلی بن عطا سے مروی ہے اور امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے، اسے شعبہ اور ہشام بن حسان سمیت ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 811]
یہ حدیث یعلی بن عطا سے مروی ہے اور امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے، اسے شعبہ اور ہشام بن حسان سمیت ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 811]