المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. إذا صلى أحدكم في رحله ثم أدرك الصلاة مع الإمام فليصلها فإنها له نافلة
اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز پا لے تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لے، وہ اس کے لیے نفل ہوگی۔
حدیث نمبر: 810
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، فذكره بنحوه.
هذا حديث صحيح، ومالكُ بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين، وقد احتَجَّ به في"الموطأ" (1) ، وهو من النوع الذي قدَّمتُ ذِكرَه أنَّ الصحابي إذا لم يكن له راويان لم يخرجاه (2) . وله شاهد مثلُ هذا النوع بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 891 - محجن تفرد عنه ابنه
هذا حديث صحيح، ومالكُ بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين، وقد احتَجَّ به في"الموطأ" (1) ، وهو من النوع الذي قدَّمتُ ذِكرَه أنَّ الصحابي إذا لم يكن له راويان لم يخرجاه (2) . وله شاهد مثلُ هذا النوع بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 891 - محجن تفرد عنه ابنه
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک بن انس مدنی احادیث کے مستند امام ہیں، یہ ان روایات میں سے ہے جہاں صحابی کا صرف ایک ہی راوی ہو جس کی وجہ سے شیخین اسے روایت نہیں کرتے، مگر اس کا شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 810]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک بن انس مدنی احادیث کے مستند امام ہیں، یہ ان روایات میں سے ہے جہاں صحابی کا صرف ایک ہی راوی ہو جس کی وجہ سے شیخین اسے روایت نہیں کرتے، مگر اس کا شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 810]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 810 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) "الموطأ" 1/ 132.
🔍 فنی نکتہ: (1) "الموطأ" (132 /1) ملاحظہ فرمائیں۔
(2) انظر تعليقنا على هذا عند الحديث المتقدم برقم (97).
📌 اہم نکتہ: (2) اس پر ہماری بحث سابقہ حدیث نمبر (97) کے تحت دیکھیں۔