🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ
منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M3
سمعت أبا بكر بن إسحاق الفقيه يقول: سمعت إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي يقول: سمعت عليَّ بن المَدِيني يقول: قد سَمِعَ أبو إسحاق من عبد الله بن أبي بَصيِر ومن أبيه أبي بَصِير. 4/
امام علی بن مدینی کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کے مرکزی راوی ابو اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بصیر اور ان کے والد ابو بصیر دونوں سے براہِ راست سماع کیا ہے، لہذا سند میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 830M3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M4
حدثنا أبو بكر بن إسحاق قال: سمعت عبد الله بن محمد المديني يقول: سمعت محمد بن يحيى يقول: روايةُ يحيى بن سعيد وخالد بن الحارث عن شعبة، وقولُ أبي الأحوص عن أبي إسحاق عن العَيْزار بن حُريث، كلُّها محفوظة. فقد ظَهَرَ بأقاويل أئمة الحديث صحةُ الحديث، وأما الشيخان فإنهما لم يُخرجاه لهذا الخلاف!
امام محمد بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تمام مختلف اسناد محفوظ اور درست ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ جلیل القدر ائمہ حدیث کے ان اقوال سے اس حدیث کی صحت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے، جبکہ شیخین نے اسے اپنی کتب میں صرف اس لیے جگہ نہیں دی کیونکہ اس کی سند کے بعض ناموں میں بظاہر اختلاف نظر آتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 830M4]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 831
أخبرني أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن موسى بن إبراهيم قال: سمعت سَلَمةَ بن الأكوع يقول: سألتُ النبيَّ ﷺ فقلت: أكونُ في الصيد وليس عليَّ إلّا قميصٌ واحد، أو جُبَّة واحدة، فأشُدُّه - أو قال: أزرُّه -؟ قال:"نعم، ولو بشَوْكةٍ" (1) .
هذا حديث مَدِيني صحيح، فإنَّ موسى هذا هو ابن إبراهيم التَّيْمي، أخو محمد (2) ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 913 - والحديث صحيح
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں شکار پر ہوتا ہوں اور میرے جسم پر صرف ایک قمیص یا ایک چغہ ہوتا ہے، کیا میں (ستر ڈھانپنے کے لیے) اسے باندھ لوں یا بٹن لگا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خواہ کانٹے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
یہ مدنی حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 831]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں