🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. صَنِيعُ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ
تشہد کے بعد نماز کے طریقۂ عمل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن يحيى بن السَّبّاق، عن رجل من بني الحارث، عن ابن مسعود، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إذا تَشهَّدَ أحدُكم في الصلاة فليقل: اللهمَّ صَلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد، وبارِكْ على محمدٍ وعلى آل محمد، وارحَمْ محمدًا وآلَ محمد، كما صلَّيتَ وبارَكْتَ وتَرحَّمتَ على إبراهيم وعلى آلِ إبراهيم، إنك حميدٌ مَجِيد" (4) . وأكثر الشواهد لهذه القاعدة لفروض الصلاة:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں تشہد پڑھے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرما، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر رحم فرما، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمتیں، برکتیں اور رحم فرمایا، بے شک تو ہی تعریف کے لائق اور بڑی بزرگی والا ہے۔ اور نماز کے فرائض کے سلسلے میں اس قاعدے کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1004]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن علي بن بَحْر البَرِّي (1) ، حدثنا أَبي، حدثني عبد المُهيمِن بن عبّاس بن سهل الساعدي قال: سمعت، أَبي يحدِّث عن جدِّي، أنَّ النبي ﷺ كان يقول:"لا صلاةَ لمن لا وُضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اللهَ عليه، ولا صلاةَ لمن لم يُصلِّ على نبيِّ الله في صلاتِه" (2) . لم يخرج هذا الحديث على شرطهما، فإنهما لم يُخرِّجا عبدَ المهيمن.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 992 - عبد المهيمن واه
عبدالمہیمن بن عباس بن سہل الساعدی اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اللہ کا نام (بسم اللہ) نہیں پڑھا، اور اس شخص کی نماز (کامل) نہیں جس نے اپنی نماز میں اللہ کے نبی پر درود نہیں بھیجا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے عبدالمہیمن کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1005]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا بِشْر بن عمر الزَّهْراني. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس؛ قالا: حدثنا شُعْبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبي عُبَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: أنه كان في الركعتين الأُولَييَنِ كأنه على الرَّضْف. قال: قلنا حتى يقومَ؟ قال: حتى يقومَ (1) . تابعه مِسعَرٌ عن سعد بن إبراهيم:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کی) پہلی دو رکعتوں میں (تشہد کے لیے) اس طرح (تیزی سے) بیٹھتے تھے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تپتے ہوئے پتھروں پر بیٹھے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پوچھا، کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔
مسعر نے بھی اسے سعد بن ابراہیم سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1006]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
حدَّثَناه أبو الحُسين (2) علي بن عبد الرحمن السَّبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا عثمان بن سعيد المُرِّي، حدثنا مِسعَر، عن سعد بن إبراهيم، فذكره بنحوه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد اتَّفقا على إخراج حديث شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله: أنه لم يكن مع النبي ﷺ ليلةَ الجِنِّ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 993 - رواه عثمان بن سعيد المري عن مسعر عن سعد نحوه على شرطهما
(سابقہ حدیث کی تائید میں مروی روایت)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں نے عمرو بن مرہ کی سند سے ابو عبیدہ عن عبداللہ (بن مسعود) کی وہ حدیث روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ وہ جنات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1007]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں