🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

103. أُمِرْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ وَأَنْ نَتَحَابَّ وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ
ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ امام کے سلام کا جواب دیں، آپس میں محبت رکھیں اور ایک دوسرے کو سلام کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أبو الجُمَاهِر محمد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا سعيد بن بَشِير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة قال: أَمَرَنا النبيُّ ﷺ أن نَرُدَّ على الإمام، وأن نَتَحَابَّ، و أن يُسلِّمَ بعضُنا على بعض (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وسعيد بن بَشِير إمام أهل الشام في عَصْره، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجاه بما وَصَفَه أبو مُسهِر من سوءِ حفظه، ومثلُه لا يُترَك بهذا القَدْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 995 - صحيح
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم امام کے سلام کا جواب دیں، آپس میں ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایک دوسرے کو سلام کریں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور سعید بن بشیر اپنے دور میں اہل شام کے امام تھے، لیکن شیخین نے ان کے حافظے کی کمزوری کی بنا پر (جیسا کہ ابو مسہر نے بیان کیا) اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ اتنی سی بات کی وجہ سے ان جیسے راوی کو ترک نہیں کیا جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله، وهذا إسناد فيه لين من قِبَل سعيد بن بشير، فإنه ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد، وهو في هذا قد تُوبع، وأما سماع الحسن -وهو البصري- من سمرة بن جندب فقد سلف الكلام فيه عند الحديث رقم (151)- وقد صحَّح هذا الحديث ابن خزيمة برقم ...» [ترقيم الرساله 1008] [ترقيم الشركة 1000] [ترقيم العلميه 995]

الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں