المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسُّ الطِّيبِ
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1050
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا ابن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن عَمرو بن أبي عَمرٍو مولى المطَّلب، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلين من أهل العراق أتياه فسألاهُ عن الغُسل يومَ الجمعة: أواجبٌ هو؟ فقال لهما ابن عباس: من اغتَسَل فهو أحسن وأطهر، وسأُخبركما لماذا بدأ الغُسل، كان الناس في عهد رسول الله ﷺ مُحتاجين يَلبَسون الصُّوف ويَسقُون النخلَ على ظُهورِهم، وكان المسجد ضيّقًا مُقارِبَ السَّقف، فخرج رسولُ الله ﷺ يومَ الجمعة في يومٍ صائفٍ شديدِ الحرّ، ومنبرُه قصير، إنما هو ثلاثُ درجات، فخطب الناسَ، فعَرِق الناسُ في الصوف، فثارت أبدانُهم ريحَ العَرَق والصوفِ حتى كان (2) يؤذي بعضُهم بعضًا، حتى بلغت أرواحُهم رسولَ الله ﷺ وهو على المنبر، فقال:"أيها الناس، إذا كان هذا اليومُ فاغتَسِلوا وليَمسَّ أحدُكم أطيبَ ما يجدُ من طِيبِه أو دُهْنِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1038 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1038 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عراق کے دو باشندے ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ کیا جمعہ کا غسل واجب ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو غسل کر لے وہ زیادہ اچھا اور پاکیزہ ہے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کی شروعات کیسے ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ ضرورت مند تھے، اونی لباس پہنتے تھے اور اپنی پیٹھ پر مشکیں لاد کر کھجور کے درختوں کو پانی پلاتے تھے، مسجد تنگ تھی اور اس کی چھت نیچی تھی، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موسمِ گرما کے ایک سخت گرم دن میں جمعہ کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چھوٹا تھا جو صرف تین سیڑھیوں پر مشتمل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو ان اونی کپڑوں میں پسینہ آ گیا اور ان کے جسموں سے پسینے اور اون کی بو اٹھنے لگی یہاں تک کہ اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہونے لگی، پھر وہ بو منبر پر موجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جب یہ دن ہو تو غسل کیا کرو اور تم میں سے جس کو میسر ہو وہ اپنی بہترین خوشبو یا تیل لگایا کرے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1050]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1050]