المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. قِرَاءَةُ سُورَةِ ص فِي الْخُطْبَةِ وَالسُّجُودُ فِيهَا
خطبے میں سورۃ ص کی تلاوت اور اس میں سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1064
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا أبي وشعيب، قالا: حدثنا الليث، حدثنا خالد بن يزيد، عن ابن أبي هلال، عن عياض بن عبد الله، عن أبي سعيد أنه قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ يومًا فقرأ ﴿ص﴾، فلما مَرَّ بالسَّجدة نزل فَسَجَدَ وسَجدْنا، وقرأها مرةً أخرى، فلما مرَّ بالسَّجدة تَبَشَّرْنا للسجود، فلما رآنا قال:"إنما هي توبةُ نبيٍّ، ولكنِّي أراكم قد استعدَدتُم للسُّجود"، فنزل فسَجَدَ وسجدنا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما السجود في: ﴿ص﴾ فقد أخرجه البخاري (2) ، وإنما الغرض في إخراجه هكذا في كتاب الجمعة أنَّ الإمام إذا قرأ السجدةَ يوم الجمعة على المنبر فمن السُّنة أن ينزل فيسجد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1052 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما السجود في: ﴿ص﴾ فقد أخرجه البخاري (2) ، وإنما الغرض في إخراجه هكذا في كتاب الجمعة أنَّ الإمام إذا قرأ السجدةَ يوم الجمعة على المنبر فمن السُّنة أن ينزل فيسجد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1052 - على شرطهما
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو خطبہ میں سورۃ (ص) پڑھی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ نے مبر سے نیچے اتر کر سجدہ کیا، ہم نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، آپ نے یہ سورۃ دوبارہ پڑھی پھر جب آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ پر خوش ہوئے، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: یہ نبی کی توبہ ہے لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو۔ پھر آپ اترے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور سورۃ ص میں سجدہ کے حوالے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث نقل کی اور اس حدیث کو کتاب الجمعہ میں نقل کرنے کی غرض یہ تھی کہ امام اگر جمعہ کے دن منبر پر آیت سجدہ پڑھے تو سنے یہ ہے کہ وہ منبر سے اتر کر سجدہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1064]
حدیث نمبر: 1065
حدثنا حمزة بن العباس العَقَبيّ، حدثنا محمد بن عيسى بن حَيَّان، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا يونس بن أبي إسحاق. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المروَزيُّ -واللفظ له- حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا أبو عمَّار، حدثنا الفَضْل بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق السَّبِيعيِّ، عن المغيرة ابن شِبْل، عن جَرير بن عبد الله قال: لما دَنَوتُ من مدينة رسول الله ﷺ أَنخْتُ راحلتي وحللتُ عَيبَتي، فلبِستُ حُلَّتي، فدخلت ورسولُ الله ﷺ يخطب، فسلَّم عليَّ رسولُ الله ﷺ، فرماني الناسُ بالحَدَق، فقلت لجليسي: يا عبد الله، هل ذَكَرَ رسول الله ﷺ مِن أمري شيئًا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسنِ الذِّكر، قال:"إنَّه سيدخُلُ عليكم مِن هذا الباب -أو من هذا الفَجِّ- مِن خَيرِ ذي يَمَنٍ، وإنَّ على وجهِهِ مَسْحةُ مَلَك"، فحَمَدتُ الله على ما أبلاني (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وهو أصلٌ في كلام الإمام في الخطبة فيما يَبدُو له في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1053 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وهو أصلٌ في كلام الإمام في الخطبة فيما يَبدُو له في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1053 - على شرطهما
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کے قریب ہوا تو اپنے اونٹ کو بٹھایا، کپڑوں کا صندوق کھولا (اس میں سے جبہ نکال کر) پہنا پھر آپ کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھا۔ اس پر لوگوں نے مجھے غور سے دیکھنا شروع کر دیا، میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق بھی کچھ ارشاد فرمایا: اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا بڑے اچھے لفظوں میں ذکر کیا اور فرمایا: ابھی ابھی اس دروازے سے یا (شاید یہ فرمایا) اس درے سے ایسا شخص داخل ہونے والا ہے جو تمام اہل یمن میں سے بہتر ہے اور بے شک اس کے چہرے پر فرشتے کی چمک ہے تو میں نے اس آزمائش پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور یہ حدیث دلیل ہے کہ امام خطبہ کے دوران اس معاملے میں گفتگو کر سکتا ہے جو اسی وقت کے لیے ظاہر ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1065]