🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. تَكْبِيرَاتُ التَّشْرِيقِ
ایامِ تشریق کی تکبیروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1124
فأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن (2) الحَجَّاج، قال: سمعت عطاءً يحدِّث عن عُبيد (3) بن عُمَير، قال: كان عمر بن الخطاب يُكبِّر بعد صلاة الفجر من يومِ عرفة إلى صلاة الظهر من آخرِ أيام التشريق (4) . وأما حديث علي:
سیدنا عبید بن عمیر فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی ظہر تک تکبیر کہا کرتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1124]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1125
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن محمد، حدثنا هنّاد، حدثنا حسين بن علي، عن زائدةَ، عن عاصم، عن شَقِيقٍ قال: كان عليٌّ يكبّر بعد صلاة الفجر غداةَ عرفةَ، ثم لا يقطعُ حتى يُصليَ الإمامُ من آخر أيام التشريق، ثم يكبِّر بعد العصر (1) . وأما حديث ابن عباس:
سیدنا شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرفہ کے فجر کی نماز کے بعد تکبیر کہتے پھر یہ تکبیر مسلسل ہر نماز میں کہتے، یہاں تک کہ امام، ایام تشریق کے آخری دن کی نماز پڑھاتا، پھر آپ عصر کے بعد تکبیر کہتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1125]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1126
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الحَكَم بن فَرُّوخ، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يُكبِّر من غداةِ عرفةَ إلى صلاة العصر من آخرِ أيامِ التشريق (1) . وأما حديث عبد الله بن مسعود:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ عرفجہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی عصر تک تکبیر کہا کرتے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1126]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1127
فأخبرناه أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هشيم، عن أبي جناب، عن عُمير بن سعيد قال: قَدِمَ علينا ابن مسعود، فكان يكبِّر من صلاة الصبح يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق (1) .
عمیر بن سعید فرماتے ہیں: ہمارے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی عصر تک تکبیر کہی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1127]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1128
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الأوزاعيَّ - وسُئِلَ عن التكبير يومَ عرفة - فقال: يُكبَّر من غَداةِ عرفة إلى آخرِ أيام التشريق، كما كبَّر عليٌّ وعبد الله (2) .
ولید بن مزید کہتے ہیں: اوزاعی سے عرفہ کے دن کی تکبیر کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے جواباً فرمایا عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخر تک تکبیر کہی جائے گی جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ و عبداللہ تکبیر کہا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1128]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1129
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا داود بن قيس، عن عِيَاض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كان رسول الله ﷺ يخرج يوم الفِطر فيصلي تَيْنِكَ الرَّكعتين، ثم يُسلِّم، ثم يقوم فيستقبلُ الناسَ وهم جلوسٌ، فيقول:"تَصدَّقُوا تَصدَّقُوا، تَصدَّقُوا"، قال: وكان أكثرَ من يتصدَّق النساءُ بالقُرْط والخاتَم (1) . آخر كتاب العيدين [من كتاب الوتر]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن تشریف لاتے اور (عید کی) دو رکعتیں پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے جبکہ وہ (اپنی جگہوں پر) بیٹھے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ (اس موقع پر) سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی عورتیں تھیں جو اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں (بطورِ صدقہ) دے رہی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1129]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں