المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. الْأَمْرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ
سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1247
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو. وأخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذيفة موسى بن مسعود؛ قالا: حدثنا زائدة، عن هشام بن عُرْوة، عن فاطمة، عن أسماءَ، قالت: أمَرَ رسول الله ﷺ بالعَتَاقةِ في كُسُوف الشَّمس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وله شاهد صحيح على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وله شاهد صحيح على شرط مسلم:
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ گزشتہ حدیث کی ایک شاہد حدیث موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْكُسُوفِ/حدیث: 1247]
حدیث نمبر: 1248
أخبرَناه إسماعيل بن محمد بن الفَضْل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن هشام بن عُرْوة، عن فاطمة بنت المُنذِر، عن أسماءَ بنت أبي بكر قالت: أمَرَ رسولُ الله ﷺ بَعَتَاقةٍ حين كَسَفتِ الشَّمس (1) .
سیدنا عبدالعزیز بن محمد رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْكُسُوفِ/حدیث: 1248]
حدیث نمبر: 1249
حدثنا عمرو بن محمد العَدْلُ وأحمد بن يعقوب الثَّقَفي، قالا: حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن عُروة، عن عروة، عن عائشة قالت: خَسَفَت الشمسُ على عهد رسول الله ﷺ، فذكر الحديث وقال فيه:"فإذا رأيتُم ذلك فادْعُوا الله وصلُّوا وتصدَّقوا وأعتِقُوا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر اس کے بعد پوری حدیث ہے اور اس کے اندر یہ ارشاد بھی موجود ہے۔” جب تم سورج گرہن دیکھو تو اللہ سے دعائیں مانگو، نماز پڑھو، صدقہ کرو، اور غلام آزاد کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْكُسُوفِ/حدیث: 1249]
حدیث نمبر: 1250
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار، حدثنا زكريا بن داود أبو يحيى الخَفّاف، حدثنا عبيد الله بن عمر بن مَيْسَرة، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن أبي قِلَابة، عن النُّعمان بن بَشِير: أنَّ الشمس انكسفت، فصلَّى النبي ﷺ ركعتين حتى انجَلَت، ثم قال:"إنَّ الشمس والقمر لا يَنكسفان لموت أحد، ولكنّهما خَلْقانِ من خَلْقِه، ويُحدِث الله في خَلْقِه ما شاء، ثم إِنَّ الله ﵎ إذا تجلَّى لشيءٍ (1) من خَلْقِه خَشع له، فأيهما انخسف فصلُّوا حتى يَنجَليَ أو يُحدِثَ الله أمرًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (ایک مرتبہ) سورج گرہن ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں یاہں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر فرمایا: چاند اور سورج کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں سے کسی کو روشن کرتا ہے تو وہ اس کے سامنے عاجزی کرتی ہے، اس لیے جب ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی گرہن لگے تو نماز میں مشغول ہو جاؤ یہاں تک کہ سورج روشن ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کا کوئی اور امر ظاہر ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ بیان نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْكُسُوفِ/حدیث: 1250]