🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. قِصَّةُ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْمُنَافِقِ
عبداللہ بن اُبی منافق کی موت کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
أخبرنا أبو عمرو عثمانُ بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق. وحدثنا محمدُ بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد الحسنُ بن عبد الصَّمد (1) ، حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثنا محمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن أسامةَ بن زيد قال: خرج رسول الله ﷺ يعودُ عبدَ الله بن أُبي في مَرَضه الذي مات فيه، فلما دخلَ عليه عَرَفَ فيه الموت قال:"قد كنتُ أنهاك عن حُبِّ يهود فقال: قد أَبغَضَهم أسعد بن زُرَارة، فمَهْ؟! فلمّا مات أتاه ابنُه فقال: يا رسول الله، إنَّ عبد الله بن أُبي قد مات فأعطِني قميصَكَ أُكفِّنْه فيه، فنزع رسول الله ﷺ قميصَه فأعطاه إياه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی (منافق) کی عیادت کے لیے اس کی اس علالت میں تشریف لے گئے جس میں اس کا انتقال ہوا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر موت کے آثار پہچان لیے اور فرمایا: میں تمہیں یہودیوں کی محبت سے منع کیا کرتا تھا، اس نے جواباً کہا: اسعد بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تھا تو اس کا اسے کیا فائدہ ہوا؟! پھر جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی فوت ہو گیا ہے، آپ مجھے اپنی قمیص مبارک عطا فرما دیں تاکہ میں اسے اس میں کفن دے سکوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص مبارک اتاری اور اسے عطا فرما دی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" 5/ 285، وقصة إلباس النبي ﷺ قميصه لعبد الله بن أُبيّ مخرَّجة في "الصحيحين" من غير هذا الوجه.» [ترقيم الرساله 1278] [ترقيم الشركة 1266]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرَّحمن، عن سفيان، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابرٍ قال: كان النبيُّ ﷺ يَعودُني ليس براكبِ بغلٍ ولا بِرْذَونٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (پیدل چل کر) میری عیادت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے اور نہ ہی کسی ترکی گھوڑے «بِرْذَونٍ» پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 1279] [ترقيم الشركة 1267]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں