المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. قِصَّةُ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْمُنَافِقِ
عبداللہ بن اُبی منافق کی موت کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 1279
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرَّحمن، عن سفيان، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابرٍ قال: كان النبيُّ ﷺ يَعودُني ليس براكبِ بغلٍ ولا بِرْذَونٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (پیدل چل کر) میری عیادت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے اور نہ ہی کسی ترکی گھوڑے «بِرْذَونٍ» پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1279]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 1279] [ترقيم الشركة 1267]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1279 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. عبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ عبدالرحمن سے مراد ابن مہدی اور سفیان سے مراد الثوری ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 23/ (15011)، وعن أحمد أخرجه أبو داود (3069).
📖 حوالہ / مصدر: یہ مسند احمد (15011/23) میں ہے، اور احمد کی سند سے ہی ابوداؤد (3069) نے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (5664)، ومسلم (1616) (7)، والترمذي (3851)، والنسائي في "الكبرى" (7459) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد - ورواية مسلم مطولة بلفظ: عادني رسول الله ﷺ وأنا مريض ومعه أبو بكر ماشيين، فوجدني قد أُغمي عليَّ، فتوضأ رسول الله، ثم صبَّ عليَّ من وَضوئه، فأفقتُ فإذا رسول الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، كيف أصنع في مالي؟ فلم يردَّ عليَّ شيئًا حتى نزلت آية الميراث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (5664)، مسلم (1616)، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ مسلم کی روایت طویل ہے جس میں آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو حضرت جابر (جو بے ہوش تھے) پر ڈالنے اور ہوش آنے پر وراثت کا سوال کرنے کا ذکر ہے۔
والبِرذون: قال القاضي عياض في "المشارق": البراذين: هي الخيل غير العِرابِ والعتاق.
📝 (توضیح): "البِرذون"؛ قاضی عیاض کے مطابق اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جو خالص عربی یا اعلیٰ نسل کا نہ ہو۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1279 in Urdu