🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. ثَوَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
بیمار کی عیادت کا اجر و ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن رجلٍ يعودُ مريضًا مُمسِيًا إلّا خرج معه سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُصبحَ، وكان له خريفٌ في الجنة، ومن أتاه مصبحًا خرج معه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُمسِي، وكان له خريفٌ في الجنة" (1) . هذا إسنادٌ صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، لأنَّ جماعةً من الرواة أوقفوه عن الحكم بن عُتَيبة ومنصور بن المعتمِر عن ابن أبي ليلى عن عليٍّ من حديث شعبةَ عنهما، وأنا على أصلي في الحُكم لراوي الزيادة.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے، اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہوئے نکلتے ہیں اور صبح تک دعا کرتے رہتے ہیں اور اس شخص کے لیے جنت میں ایک باغ ہے جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے نکلے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو کہ شام تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کےمطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا کیونکہ راویوں کی ایک جماعت ہے جنہوں نے اس حدیث کو حکم بن عتیبہ اور منصور بن المعتمر سے ابن ابی لیلی کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک موقوف رکھا ہے جس کو شعبہ نے روایت کیا ہے اور میں راوی کی زیادتی کے سلسلے میں اپنی اصل پر قائم ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1281
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفَضْل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا حَجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن زيد بن أرقم قال: عادَني رسول الله ﷺ من وَجَعٍ كان بعَيني (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من حديث أنس بن مالك:
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری آنکھوں میں درد تھا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1282
حدَّثَناه أبو عليٍّ الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا محمد بن يحيى بن كثير الحِمْصي، حدثنا محمد بن المصفَّى، حدثنا معاوية بن حفص، حدثنا مالك بن مِغوَلٍ، عن الزُّبير بن عَدِيّ، عن أنسٍ قال: عاد رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ أرقمَ من رَمَدٍ كان به (1) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ارقم کی آشوب چشم کی وجہ سے عیادت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1282]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصَّمد بن الفضل البَلْخِي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا الجُعَيد بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، أنَّ أباها قال: اشتكيتُ بمكة، فجاءني رسول الله ﷺ يَعودُني، ووَضَع يده على جبهتي، ثم مسح صدري وبطني ثم قال:"اللهم اشْفِ سعدًا وأتمِمْ له هِجرتَه" (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ میں مکہ میں بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پہ رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ کو ملا پھر یوں دعا مانگی یا اللہ سعد کو شفاء دے اور اس کی ہجرت کو پورا کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1283]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں