المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. الْحُمَّى تَغْسِلُ الذُّنُوبَ
بخار گناہوں کو دھو دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1295
أخبرني إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرَّازي، حدثنا سعيد بن كَثِير بن عُفَير، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن خالد بن يزيد، عن أبي الزُّبير عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ عادَ امرأة من الأنصار، فقال لها:"أهيَ أُمُّ مِلْدَم؟" قالت: نعم فَلَعَنَها الله، فقال رسول الله ﷺ:"لا تَسُبِّيها، فإنها تَغسِلُ ذنوبَ العبد كما يُذهِبُ الكِيرُ خَبَثَ الحديد" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم بغير هذا اللفظ من حديث حَجَّاج بن أبي عثمان عن أبي الزُّبير (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم بغير هذا اللفظ من حديث حَجَّاج بن أبي عثمان عن أبي الزُّبير (2) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون کی عیادت فرمائی اور ان سے پوچھا: ”کیا یہ «أُمُّ مِلْدَم» ”بخار“ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ اس پر لعنت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ بندے کے گناہوں کو اس طرح دھو ڈالتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے حجاج بن ابی عثمان کی ابوزبیر سے روایت کے ذریعے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1295]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے حجاج بن ابی عثمان کی ابوزبیر سے روایت کے ذریعے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1295]