المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ
بخار رسولُ اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی۔
حدیث نمبر: 1296
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا تَمِيم بن محمد، حدثنا يحيى بن المغيرة، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابرٍ، قال: أنت الحُمَّى النبيَّ ﷺ فاستأذنت عليه، فقال:"مَن أنتِ؟" قالت: أنا أمُّ مِلْدَم، فقال:"أَتُهدَيْنَ إلى أهل قُباءٍ؟" قالت: نعم، قال: فأتَتَهم فحُمُّوا ولَقُوا منها شدةً، فاشتَكَوا إليه، قالوا: يا رسول الله، ما لَقِينا من الحمَّى، قال:"إن شئتُم دعوتُ الله فكَشَفَها عنكم، وإن شئتُم كانت لكم طَهورًا"، قالوا: لا، بل تكون لنا طَهورًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بخار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ اس نے کہا: میں «أُمُّ مِلْدَم» ”بخار“ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اہل قباء کے پاس بھیجی جانی پسند کرے گی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس چلا گیا اور انہیں بخار ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں شدید تکلیف پہنچی، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بخار کی وجہ سے ہم بہت تکلیف میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں اور وہ اسے تم سے دور کر دے، اور اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لیے «طَهُورًا» ”پاکیزگی کا ذریعہ“ بن جائے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہی رہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1296]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل أبي سفيان» [ترقيم الرساله 1296] [ترقيم الشركة 1284]
الحكم على الحديث: إسناده قوي