🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ
مؤمن پر اس کی جان، مال اور اولاد میں آزمائش آتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزالُ البلاءُ بالمؤمن في نفسِه ومالِه وولدِه، حتى يَلقَى الله وما عليه من خَطِيئة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد کے معاملے میں مسلسل آزمائشوں میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1297] [ترقيم الشركة 1285]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1298
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزَّاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الله بن المختار، عن ابن سيرين، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"وَصَبُ المُؤمِنِ كفارةٌ لخطاياه" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کو پہنچنے والی بیماری اور تکلیف اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: «هذا إسناد لا بأس برجاله، إلّا أنه قد أعله أبو حاتم الرازي والدارقطني بوهم وقع من عبد الله بن المختار في جعله من حديث أبي هريرة وفي رفعه وقالا: إنَّ الصحيح ما رواه أيوب السختياني وهشام بن حسان - قال الدارقطني وحسبك بهما في الثقة - عن ابن سيرين، عن ...» [ترقيم الرساله 1298] [ترقيم الشركة 1286]

الحكم على الحديث: هذا إسناد لا بأس برجاله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں