🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. فَضِيلَةُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ
موت کے وقت لا إله إلا الله کہنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1313
أخبرنا محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنْجابُ بن الحارث، حدثنا علي بن مُسْهِر، عن مُطرِّف بن طَرِيف الحارثي، عن الشَّعبي، عن يحيى بن طَلْحة بن عُبيد الله، عن أبيه: أنَّ عمر رآه كئيبًا فقال له: ما لكَ؟ لعلك ساءتْكَ إمرَةُ ابن عمِّك؟ قال: لا - وأثنَى على أبي بكر - ولكنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كلمةٌ لا يقولها عبدٌ عند موته، إلا فرَّج الله عنه كُرْبتَه وأشرَقَ لونُه"، فما مَنَعَني أن أسأله عنها إلّا القُدرةُ عليها، حتى مات، فقال عمر: إني لأعرفُها، فقال له طلحة: وما هي؟ فقال له عمر: هل تعلمُ كلمةً هي أعظمُ من كلمةٍ أمَرَ بها عمَّه؛ لا إله إلَّا الله؟ فقال له طلحة: هي واللهِ هي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما الوهمُ الذي أتى به محمد بنُ عبد الوهاب عن مِسعَر.............. (1) .
سیدنا یحیی بن طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو رنجیدہ خاطر اور پریشان دیکھا تو کہنے لگے: تجھے کیا ہوا ہے؟ شاید کہ تیرے چچا کے بیٹے کی بیوی نے تیرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اہوں نے جواباً کہا: نہیں اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف کی، پھر کہنے لگے: لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کلمہ بولتے سنا تھا، اگر کوئی شخص موت کے وقت اس کو پڑھ لے تو موت کی سختی ختم ہو جاتی ہے۔ اور اس کا رنگ نکھر جاتا ہے اور میں حضور علیہ السلام سے وہ کلمہ پوچھنے پر قادر بھی تھا لیکن پوچھ نہ سکا۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کلمہ کا پتہ ہے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا: کیا تمہیں اس سے بڑھ کر کسی کلمہ کے متعلق معلوم ہے جو کلمہ حضور علیہ السلام نے اپنے چچا کو پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم یہی وہ کلمہ ہے ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1313]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1314
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار إملاءً، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتادة، عن مسلم بن يَسَار، عن حُمْران بن أَبَان، عن أبيه: أنَّ عثمان بن عفان حدَّث عمرَ بنَ الخطاب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إني لأعلمُ كلمةً لا يقولها عبدٌ حقًّا من قَلبِه فيموتُ، إِلَّا حُرِّم على النار"، فقُبض رسولُ الله ﷺ ولم يُخبِرْناها، فقال عمر بن الخطاب: أنا أُخبِرُك بها؛ هي كلمة الإخلاص التي أمَرَ بها رسولُ الله ﷺ عمَّه أبا طالب عند الموت: شهادةُ أن لا إله إلّا الله، وهي الكلمةُ التي أكرَمَ الله بها محمدًا ﷺ وأصحابَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما انفرد مسلم بإخراج حديث خالدٍ الحذَّاء، عن الوليد بن مسلم، عن حُمْران، عن عثمان، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن مات وهو يَعلَمُ أن لا إله إلّا الله، دَخَلَ الجنة" (1) .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ انسان نے اس کو خلوص دل سے پڑھا ہو پھر اس کا انتقال ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام فرما دیتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا لیکن اس کلمہ کے بارے میں آپ علیہ السلام نے کوئی وجاحت نہیں فرمائی تھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلمہ کیا ہے۔ وہ کلمہ اخلاص ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کو ان کی وفات سے وقت تلقین کی تھی، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اسی کلمے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ا کے اصحاب کو عزت بخشی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ ہے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم صرف امام مسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص موت کے وقت جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ جنتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1314]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں