المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. فَضِيلَةُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ
موت کے وقت لا إله إلا الله کہنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1313
أخبرنا محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنْجابُ بن الحارث، حدثنا علي بن مُسْهِر، عن مُطرِّف بن طَرِيف الحارثي، عن الشَّعبي، عن يحيى بن طَلْحة بن عُبيد الله، عن أبيه: أنَّ عمر رآه كئيبًا فقال له: ما لكَ؟ لعلك ساءتْكَ إمرَةُ ابن عمِّك؟ قال: لا - وأثنَى على أبي بكر - ولكنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كلمةٌ لا يقولها عبدٌ عند موته، إلا فرَّج الله عنه كُرْبتَه وأشرَقَ لونُه"، فما مَنَعَني أن أسأله عنها إلّا القُدرةُ عليها، حتى مات، فقال عمر: إني لأعرفُها، فقال له طلحة: وما هي؟ فقال له عمر: هل تعلمُ كلمةً هي أعظمُ من كلمةٍ أمَرَ بها عمَّه؛ لا إله إلَّا الله؟ فقال له طلحة: هي واللهِ هي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما الوهمُ الذي أتى به محمد بنُ عبد الوهاب عن مِسعَر.............. (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما الوهمُ الذي أتى به محمد بنُ عبد الوهاب عن مِسعَر.............. (1) .
سیدنا یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں (طلحہ کو) غمزدہ دیکھا تو پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ شاید آپ کو اپنے چچا زاد (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کی امارت ناگوار گزری ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں - اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی - بلکہ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: ”ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو بندہ بھی اپنی موت کے وقت اسے کہہ دے تو اللہ اس کی بے چینی دور فرما دیتا ہے اور اس کا رنگ روشن ہو جاتا ہے“، تو مجھے اس کلمے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے سے صرف اس پر قدرت پانے نے روکے رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کلمے کو جانتا ہوں، طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ اس کلمے سے بڑھ کر کسی کلمے کو جانتے ہیں جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو حکم دیا تھا؛ یعنی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا! یہی وہ کلمہ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، رہا وہ وہم جو محمد بن عبد الوہاب نے مسعر سے روایت کرتے ہوئے کیا ہے (تو وہ الگ بات ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1313]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، رہا وہ وہم جو محمد بن عبد الوہاب نے مسعر سے روایت کرتے ہوئے کیا ہے (تو وہ الگ بات ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، محمد بن الخليل الأصبهاني - شيخ المصنف، وقد كناه في غير ما موضع من "المستدرك" بأبي عبد الله - ذكره المصنف في "تاريخ نيسابور" (كما في "تلخيصه" للخليفة النيسابوري ص 105) ووصفه بالمعدِّل، ومن فوقه ثقات. الشعبي هو عامر بن شراحيل، وهذا إسناد قد اختلف فيه على عامر ...» [ترقيم الرساله 1313] [ترقيم الشركة 1301]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1314
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار إملاءً، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتادة، عن مسلم بن يَسَار، عن حُمْران بن أَبَان، عن أبيه: أنَّ عثمان بن عفان حدَّث عمرَ بنَ الخطاب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إني لأعلمُ كلمةً لا يقولها عبدٌ حقًّا من قَلبِه فيموتُ، إِلَّا حُرِّم على النار"، فقُبض رسولُ الله ﷺ ولم يُخبِرْناها، فقال عمر بن الخطاب: أنا أُخبِرُك بها؛ هي كلمة الإخلاص التي أمَرَ بها رسولُ الله ﷺ عمَّه أبا طالب عند الموت: شهادةُ أن لا إله إلّا الله، وهي الكلمةُ التي أكرَمَ الله بها محمدًا ﷺ وأصحابَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما انفرد مسلم بإخراج حديث خالدٍ الحذَّاء، عن الوليد بن مسلم، عن حُمْران، عن عثمان، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن مات وهو يَعلَمُ أن لا إله إلّا الله، دَخَلَ الجنة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما انفرد مسلم بإخراج حديث خالدٍ الحذَّاء، عن الوليد بن مسلم، عن حُمْران، عن عثمان، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن مات وهو يَعلَمُ أن لا إله إلّا الله، دَخَلَ الجنة" (1) .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسے کلمے کو جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے سچے دل سے کہے اور پھر اس کی موت واقع ہو جائے، تو اس پر (جہنم کی) آگ حرام کر دی جاتی ہے“، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کلمے کے بارے میں (واضح طور پر) نہیں بتایا تھا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں؛ یہ وہی کلمہ اخلاص ہے جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت اپنے چچا ابوطالب کو دیا تھا یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، اور یہی وہ کلمہ ہے جس کے ذریعے اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کو معزز فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم خالد حذاء کی ولید بن مسلم سے مروی اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1314]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم خالد حذاء کی ولید بن مسلم سے مروی اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1314] [ترقيم الشركة 1302]