المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. رُخْصَةُ الْبُكَاءِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَمَنْعُهُ بَعْدَهُ
موت سے پہلے رونے کی اجازت اور موت کے بعد اس کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1316
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مالك. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المرْوَزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنَبي فيما قَرأَ على مالك، عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عَتِيك، أنَّ عَتِيك بن الحارث بن عَتِيك - وهو جَدُّ عبد الله بن عبد الله أبو أُمِّه - أخبره، أنَّ جابر بن عَتِيك أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ جاء يَعودُ عبد الله بن ثابت، فوَجَدَه قد غُلِبَ، فصاح به، فلم يُجِبْه، فاستَرجَعَ رسولُ الله ﷺ وقال:"غُلِبْنا عليك يا أبا الرَّبيع"، فصاح النَّسوةُ وبَكَين، فجعل ابن عَتِيك يُسكِّتُهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"دَعْهُنَّ، فإذا وَجَبَ فلا تَبكِيَنَّ باكيةٌ"، قالوا يا رسول الله، وما الوجوب؟ قال:"إذا مات"، فقالت ابنتُه: والله إني كنتُ أرجو أن تكون شهيدًا، فإنك قد كنت قَضَيتَ جِهازَكَ، فقال رسول الله ﷺ:"قد أوقعَ الله أجرَه على قدْر نِيَّتِه، وما تعدُّون الشهادَة؟" قالوا: القتلَ في سبيل الله فقال رسول الله ﷺ:"الشهادة سبعٌ سوى القتل في سبيل الله: المطعونُ شهيد، والغَريقُ شهيد، وصاحب ذات الجَنْب شهيد، والمَبطونُ شهيد، وصاحبُ الحريق شهيد، والذي يموتُ تحت الهَدْم شهيد، والمرأةُ تموت بجُمْعٍ شهيدة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، رواتُه مدنيُّون قرشيُّون، وعندي"حديث مالك" جَمْعُ مسلم بن الحجّاج، بَدَأ بهذا الحديث من شيوخ مالك.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، رواتُه مدنيُّون قرشيُّون، وعندي"حديث مالك" جَمْعُ مسلم بن الحجّاج، بَدَأ بهذا الحديث من شيوخ مالك.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غشی کے عالم میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع! ہم تمہارے معاملے میں مغلوب ہو گئے“، اس پر عورتیں چیخنے اور رونے لگیں تو ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں (رونے) دو، لیکن جب «وَجَبَ» ہو جائے تو پھر کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وجوب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ فوت ہو جائے“، پھر اس کی بیٹی نے کہا: بخدا! میں تو یہی امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے تو اپنے جہاد کا سامان بھی تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے اس کی نیت کے مطابق اسے اجر دے دیا ہے، اور تم شہادت کسے شمار کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب (پھیپھڑوں کی بیماری) میں مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے، جو ملبے کے نیچے دب کر مر جائے وہ شہید ہے، اور وہ عورت جو حمل کی حالت میں یا زچگی کے دوران فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی مدنی قرشی ہیں، اور میرے نزدیک امام مسلم کی جمع کردہ امام مالک کی احادیث میں امام مالک کے شیوخ سے اسی حدیث سے آغاز کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1316]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی مدنی قرشی ہیں، اور میرے نزدیک امام مسلم کی جمع کردہ امام مالک کی احادیث میں امام مالک کے شیوخ سے اسی حدیث سے آغاز کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1316]