🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. رخصة البكاء قبل الموت ومنعه بعده
موت سے پہلے رونے کی اجازت اور موت کے بعد اس کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1316
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مالك. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المرْوَزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنَبي فيما قَرأَ على مالك، عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عَتِيك، أنَّ عَتِيك بن الحارث بن عَتِيك - وهو جَدُّ عبد الله بن عبد الله أبو أُمِّه - أخبره، أنَّ جابر بن عَتِيك أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ جاء يَعودُ عبد الله بن ثابت، فوَجَدَه قد غُلِبَ، فصاح به، فلم يُجِبْه، فاستَرجَعَ رسولُ الله ﷺ وقال:"غُلِبْنا عليك يا أبا الرَّبيع"، فصاح النَّسوةُ وبَكَين، فجعل ابن عَتِيك يُسكِّتُهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"دَعْهُنَّ، فإذا وَجَبَ فلا تَبكِيَنَّ باكيةٌ"، قالوا يا رسول الله، وما الوجوب؟ قال:"إذا مات"، فقالت ابنتُه: والله إني كنتُ أرجو أن تكون شهيدًا، فإنك قد كنت قَضَيتَ جِهازَكَ، فقال رسول الله ﷺ:"قد أوقعَ الله أجرَه على قدْر نِيَّتِه، وما تعدُّون الشهادَة؟" قالوا: القتلَ في سبيل الله فقال رسول الله ﷺ:"الشهادة سبعٌ سوى القتل في سبيل الله: المطعونُ شهيد، والغَريقُ شهيد، وصاحب ذات الجَنْب شهيد، والمَبطونُ شهيد، وصاحبُ الحريق شهيد، والذي يموتُ تحت الهَدْم شهيد، والمرأةُ تموت بجُمْعٍ شهيدة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، رواتُه مدنيُّون قرشيُّون، وعندي"حديث مالك" جَمْعُ مسلم بن الحجّاج، بَدَأ بهذا الحديث من شيوخ مالك.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غشی کے عالم میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: اے ابوربیع! ہم تمہارے معاملے میں مغلوب ہو گئے، اس پر عورتیں چیخنے اور رونے لگیں تو ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں (رونے) دو، لیکن جب «وَجَبَ» ہو جائے تو پھر کوئی رونے والی نہ روئے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وجوب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ فوت ہو جائے، پھر اس کی بیٹی نے کہا: بخدا! میں تو یہی امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے تو اپنے جہاد کا سامان بھی تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اس کی نیت کے مطابق اسے اجر دے دیا ہے، اور تم شہادت کسے شمار کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب (پھیپھڑوں کی بیماری) میں مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے، جو ملبے کے نیچے دب کر مر جائے وہ شہید ہے، اور وہ عورت جو حمل کی حالت میں یا زچگی کے دوران فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی مدنی قرشی ہیں، اور میرے نزدیک امام مسلم کی جمع کردہ امام مالک کی احادیث میں امام مالک کے شیوخ سے اسی حدیث سے آغاز کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1316]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1316 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح. القعنبي: هو عبد الله بن مَسلمة بن قَعنب.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) محمد بن عمرو بن علقمہ کی وجہ سے سند حسن ہے۔ سعید بن عامر سے مراد الضبعی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3111) عن القعنبي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8395/14)، نسائی (7449) اور ابن حبان (2916) نے محمد بن عمرو کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23753)، والنسائي (1985) و (7455)، وابن حبان (3189) و (3190) من طرق عن مالك، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8794/14) نے ابومعشر عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر تمام تخريجه وذكر شواهده في تعليقنا على الكتب السالفة الذكر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ابومعشر (نجیح بن عبدالرحمن) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قولها قضيتَ جهازَك، بفتح الجيم وكسرها، أي: أتممتَ ما تحتاج إليه في سفرك للغزو.
📝 (توضیح): آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "جس نے جہنمی دیکھنا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے" (جسے کبھی بیماری نہیں ہوئی)؛ ابن حبان کے مطابق یہ دراصل بیماریوں اور غموں پر صبر نہ کرنے سے روکنے کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو دنیا میں تندرست رہا وہ لازماً جہنمی ہے۔
المطعون: هو الذي يموت في الطاعون.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے۔ عمران بن زید (ابویحییٰ الملائی الطویل) اس میں منفرد ہیں اور وہ کمزور راوی ہیں۔ ابوحاتم نے اسے "مضطرب سند" قرار دیا ہے۔
وذات الجَنْب: هو التهابٌ في الغشاء المحيط بالرئة.
🔍 فنی نکتہ: اسد بن موسیٰ العمی اور سالم بن عبداللہ الدوسی (سالم سبلان) اس کے راوی ہیں۔
والمبطون: هو الذي يموت بمرض بطنه كالإسهال والاستسقاء ونحوهما.
⚖️ درجۂ حدیث: علامہ منذری نے اس کی سند کو حسن اور حافظ ابن حجر نے "جید" قرار دیا ہے۔
وقوله: "المرأة تموت بجُمْع" بضم الجيم وسكون الميم: الميتة في النفاس وولدها في بطنها لم تلده وقد تمَّ خلقه، وقيل: هي التي تموت من الولادة سواء ألقت ولدها أم لا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9394) میں حاکم کی سند سے روایت کیا ہے، مگر وہاں نام میں غلطی سے "سالم بن عبداللہ بن عمر" لکھا گیا ہے۔